حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 508
1190 اور کیونکر اس کا دل اطمینان پکڑ سکتا ہے عوام الناس کو جوا کثر چار پائیوں کی طرح ہوتے ہیں اس طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ لمبی چوڑی تفتیش کریں اور بات کی تہ تک پہنچ جائیں۔اور ایسے تماشوں کے دکھلانے کا عرصہ بھی نہایت ہی تھوڑا ہوتا ہے جس میں غور اور فکر کرنے کے لئے کافی فرصت نہیں مل سکتی اس لئے مکاروں کے لئے دست بازی کی بہت گنجائش رہتی ہے اور ان کے پوشیدہ بھیدوں پر اطلاع پانے کا کم موقعہ ملتا ہے۔علاوہ اس کے عوام بیچارے علوم طبعی وغیرہ فنون فلاسفہ سے کچھ خبر نہیں رکھتے اور جو کائنات میں حکیم مطلق نے طرح طرح کے عجیب خواص رکھے ہیں ان خواص کی انہیں کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔پس وہ ہر یک وقت اور ہر زمانہ میں دھوکا کھانے کو تیار ہیں اور کیونکر دھو کہ نہ کھاویں خواص اشیاء کے ایسے ہی حیرت افزاء ہیں اور بے خبری کی حالت میں موجب زیادت حیرت ہوتے ہیں مثلاً مکھی اور دوسرے بعض جانوروں میں یہ خاصیت ہے کہ اگر ایسے طور پر مر جائیں کہ ان کے اعضاء میں کچھ زیادہ تفرق اتصال واقع نہ ہو اور اعضاء اپنی اصلی ہیئت اور وضع پر سلامت رہیں اور متعفن ہونے بھی نہ پائیں بلکہ ابھی تازہ ہی ہوں اور موت پر دو تین گھنٹے سے زیادہ عرصہ نہ گذرا ہو جیسے پانی میں مری ہوئی لکھیاں ہوتی ہیں تو اس صورت میں اگر نمک باریک پیس کر اس لکھی وغیرہ کو اس کے نیچے دبایا جاوے اور پھر اسی قدر خاکستر بھی اس پر ڈالی جاوے تو وہ کبھی زندہ ہو کر اڑ جاتی ہے اور یہ خاصیت مشہور ومعروف ہے جس کو اکثر لڑ کے بھی جانتے ہیں لیکن اگر کسی سادہ لوح کو اس نسخے پر اطلاع نہ ہو اور کوئی مکار اس نادان اور بے خبر کے سامنے مگس مسیح ہونے کا دعویٰ کرے اور اسی حکمت عملی سے مکھیوں کو زندہ کرے اور بظا ہر کوئی منتر جنتر پڑھتار ہے جس سے یہ جتلانا منظور ہو کہ گویا وہ اسی منتر کے ذریعہ سے مکھیوں کو زندہ کرتا ہے تو پھر اس سادہ لوح کو اس قدر عقل اور فرصت کہاں ہے کہ تحقیقا تیں کرتا پھرے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ مکار لوگ اسی زمانہ میں دنیا کو ہلاک کر رہے ہیں۔کوئی سونا بنا کر دکھلاتا ہے اور کیمیا گری کا دعوی کرتا ہے اور کوئی آپ ہی زمین کے نیچے پتھر دبا کر پھر ہندوؤں کے سامنے دیوی نکالتا ہے۔بعض نے ایسا بھی کیا ہے کہ جمال گوٹہ کا روغن اپنی دوات کی سیاہی میں ملایا اور پھر اس سیاہی سے کسی سادہ لوح کو تعویذ لکھ کر دیا تا دست آنے پر تعویذ کا اثر ظاہر ہو ایسے ہی ہزاروں اور مکر اور فریب ہیں کہ جو اسی زمانہ میں ہو رہے ہیں اور بعض مکر ایسے عمیق ہیں جن سے بڑے بڑے دانشمند دھوکا کھا جاتے ہیں اور علوم طبعی کے دقائق عمیقہ اور جسمی تراکیب اور قوتوں کے خواص عجیبہ جو حال کے زمانہ میں نئے تجارب کے ذریعہ سے روز بروز پھیلتے جاتے ہیں۔یہ جدید باتیں ہیں جن سے جھوٹے معجزے دکھلانے والے نئے نئے مکر