حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 478 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 478

117۔اسے قبول نہ کیا لیکن خدا سے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔سو ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے حملوں کو نہیں روکے گا اور نہ بس کرے گا جب تک کہ دنیا پر میری سچائی ظاہر نہ ہو جائے۔لیکن آج ۱۵ رمئی ۱۹۰۸ء کو میرے دل میں ایک خیال آیا ہے کہ ایک اور طریق فیصلہ کا ہے۔شاید کوئی خدا ترس اس سے فائدہ اٹھا دے اور انکار کے خطرناک گرداب سے نکل آوے اور وہ طریق یہ ہے کہ میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافر اور کذاب سمجھتا ہو۔وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں یا دس نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں۔یعنی اس طرح پر کہ دو خطر ناک بیمار لے کر جو جدا جدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے ذریعے سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دعا کے لئے تقسیم کر لیں۔پھر جس فریق کا بیمار بکلی اچھا ہو جاوے یا دوسرے بیمار کے مقابل پر اس کی عمر زیادہ کی جاوے، وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اور میں پہلے سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کر کے یہ خبر دیتا ہوں کہ جو بیمار میرے حصہ میں آوے گا یا تو خدا اسے بکلی صحت دے گا اور یا بہ نسبت دوسرے بیمار کے اس کی عمر بڑھا دے گا اور یہی امر میری سچائی کا گواہ ہو گا۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یہ سمجھو کہ میں خدا تعالے کی طرف سے نہیں۔لیکن یہ شرط ہوگی کہ فریق مخالف جو میرے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ خود اور ایسا ہی دس اور مولوی یا دس رئیس جو اس کے ہم عقیدہ ہوں یہ شائع کر دیں کہ در حالت میرے غلبہ کے وہ میرے پر ایمان لائیں گے اور میری جماعت میں داخل ہوں گے اور یہ اقرار تین نامی اخباروں میں شائع کرانا ہو گا۔ایسا ہی میری طرف سے بھی یہی شرائط ہوں گی۔اس قسم کے مقابلہ سے فائدہ یہ ہو گا کہ کسی خطرناک بیمار کی جو اپنی زندگی سے نومید ہو چکا ہے۔خدا تعالیٰ جان بچائے گا اور احیائے موتی کے رنگ میں ایک نشان ظاہر کرے گا اور دوسرے یہ کہ اس طور سے یہ جھگڑا بڑے آرام اور سہولت سے فیصلہ ہو جائے گا۔والسلام على من اتبع الهدى المشتهر مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ۱۵ رمئی ۱۹۰۸ء چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲ تا ۴)