حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 477
۱۱۵۹ نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ہر ایک پہلو سے وہ مغلوب نہ ہوتے۔قرآن شریف ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔معراج کی حدیث اور حدیث اِمَامُكُم مِنكُم ان کو جھوٹا ٹھہراتی ہے۔مباہلوں کا انجام ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔پھر ان کے ہاتھ میں کیا ہے جو اس خدا کے اس فرستادہ کی دلیری سے تکذیب کر رہے ہیں جو تقریباً چھبیس برس سے ان کو حق اور راستی کی طرف بلا رہا ہے۔کیا اب تک انہوں نے آیت کریمہ يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْلے کا مزہ نہیں چکھا۔کہاں ہے مولوی غلام دستگیر جس نے اپنی کتاب فیض رحمانی میں میری ہلاکت کے لئے بددعا کی تھی اور مجھے مقابل پر رکھ کر جھوٹے کی موت چاہی تھی ؟ کہاں ہے مولوی چراغ دین جموں والا جس نے الہام کے دعوے سے میری موت کی خبر دی تھی اور مجھ سے مباہلہ کیا تھا ؟ کہاں ہے فقیر مرزا جو اپنے مریدوں کی ایک بڑی جماعت رکھتا تھا جس نے بڑے زور شور سے میری موت کی خبر دی تھی۔اور کہا تھا کہ عرش پر سے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ شخص مفتری ہے آئندہ رمضان تک میری زندگی میں ہلاک ہو جائیگا لیکن جب رمضان آیا تو پھر آپ ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔کہاں ہے سعد اللہ لو دھانوی ؟ جس نے مجھ سے مباہلہ کیا تھا اور میری موت کی خبر دی تھی۔آخر میری زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔کہاں ہے مولوی محی الدین لکھو کے والا ؟ جس نے مجھے فرعون قرار دیکر اپنی زندگی میں ہی میری موت کی خبر دی تھی اور میری تباہی کی نسبت کئی اور الہام شائع کئے تھے۔آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی دنیا سے گذر گیا۔کہاں ہے با بو الہی بخش صاحب مؤلف عصائے موسیٰ اکونٹ لاہور؟ جس نے اپنے تئیں موسیٰ قرار دیکر مجھے فرعون قرار دیا تھا اور میری نسبت اپنے زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور میری تباہی کی نسبت اور بھی بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی اپنی کتاب عصائے موسیٰ پر جھوٹ اور افتراء کا داغ لگا کر طاعون کی موت سے بصد حسرت مرا۔اور ان تمام لوگوں نے چاہا کہ میں اس آیت کا مصداق ہو جاؤں کہ اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُہ کے لیکن وہ آپ ہی اس آیت ممدوحہ کا مصداق ہو کر ہلاک ہو گئے اور خدا نے انکو ہلاک کر کے مجھ کو اس آیت کا مصداق بنایا۔وَاِنْ يَّكَ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ کے کیا ان تمام دلائل سے خدا تعالیٰ کی حجت پوری نہیں ہوئی مگر ضرور تھا کہ مخالف لوگ انکار سے پیش آتے۔کیونکہ پہلے سے یعنی آج سے چھبیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا کی یہ پیشگوئی موجود ہے۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے ا المؤمن: ٢٩