حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 43

۷۲۵ محبت ہیں وہ موت سے نہیں مرتے کیونکہ ان کا پانی اور ان کی روٹی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔پھر برزخ کے بعد وہ زمانہ ہے جس کا نام عالم بعث ہے۔اس زمانہ میں ہر ایک روح نیک ہو یا بد، صالح ہو یا فاسق ایک کھلا کھلا جسم حاصل کرے گی اور یہ دن خدا کی اُن پوری تجلیات کے لئے مقرر کیا شخص گیا ہے جس میں ہر ایک انسان اپنے رب کی ہستی سے پورے طور پر واقف ہو جائے گا اور ہر ایک می اپنی جزا کے انتہائی نقطہ تک پہنچے گا۔یہ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ خدا سے یہ کیونکر ہو سکے گا کیونکہ وہ ہر ایک قدرت کا مالک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔اَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ - وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ۔قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَاهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ۔۔۔اَوَلَيْسَ الَّذِى خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ بِقَدِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلْقُ الْعَلِيْمُ۔إِنَّمَا أَمْرَةً إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ۔فَسُبْحْنَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲ ۴۰ تا ۴۰۷) اسلام میں یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی فلاسفی ہے کہ ہر ایک کو قبر میں ہی ایسا جسم مل جاتا ہے کہ جو لذت اور عذاب کے ادراک کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ وہ جسم کس مادہ سے تیار ہوتا ہے کیونکہ یہ فانی جسم تو کالعدم ہو جاتا ہے اور نہ کوئی مشاہدہ کرتا ہے کہ در حقیقت یہی جسم قبر میں زندہ ہوتا ہے۔اس لئے کہ بسا اوقات یہ جسم جلایا بھی جاتا ہے اور عجائب گھروں میں لاشیں بھی رکھی جاتی ہیں اور مدتوں تک قبر سے باہر بھی رکھا جاتا ہے۔اگر یہی جسم زندہ ہو جایا کرتا تو البتہ لوگ اس کو دیکھتے مگر بایں ہمہ قرآن سے زندہ ہو جانا ثابت ہے۔لہذا یہ ماننا پڑتا ہے کہ کسی اور جسم کے ذریعہ سے جس کو ہم نہیں دیکھتے انسان کو زندہ کیا جاتا ہے اور غالباً وہ جسم اسی جسم کے لطائف جوہر سے بنتا ہے۔تب جسم ملنے کے بعد انسانی قومی بحال ہوتے ہیں اور یہ دوسرا جسم چونکہ پہلے جسم کی نسبت نہایت لطیف ہوتا ہے اس لئے اس پر مکاشفات کا دروازہ نہایت وسیع طور پر کھلتا ہے اور معاد کی تمام حقیقتیں جیسی کہ وہ ہیں كَمَا هِی ہی نظر آ جاتی ہیں۔تب خطا کرنے والوں کو علاوہ جسمانی عذاب کے ایک حسرت کا عذاب بھی ہوتا ہے۔غرض یہ اصول متفق علیہ السلام میں ہے کہ قبر کا عذاب یا آرام بھی جسم کے ذریعہ يس : ۷۶ تا ۷۸ يس : ۸۲ تا ۸۴