حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 42

۷۲۴ ذکر آیا ہے اور بعض جسم نورانی اور بعض ظلماتی قرار دیئے ہیں جو اعمال کی روشنی یا اعمال کی ظلمت سے تیار ہوتے ہیں۔اگر چہ یہ راز ایک نہایت دقیق راز ہے مگر غیر معقول نہیں۔انسانِ کامل اسی زندگی میں ایک نورانی وجود اس کیفیت جسم کے علاوہ پاسکتا ہے اور عالم مکاشفات میں اس کی بہت مثالیں ہیں۔اگر چہ ایسے شخص کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے جو صرف ایک موٹی عقل کی حد تک ٹھہرا ہوا ہے لیکن جن کو عالم مکاشفات میں سے کچھ حصہ ہے وہ اس قسم کے جسم کو جو اعمال سے تیار ہوتا ہے تعجب اور استبعاد کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے بلکہ اس مضمون سے لذت اٹھائیں گے۔غرض یہ جسم جو اعمال کی کیفیت سے ملتا ہے یہی عالم برزخ میں نیک و بد کی جزا کا موجب ہو جاتا ہے۔میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔مجھے کشفی طور پر مین بیداری میں با رہا بعض مردوں کی ملاقات کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے بعض فاسقوں اور گمراہی اختیار کرنے والوں کا جسم ایسا سیاہ دیکھا ہے کہ گویا وہ دھوئیں سے بنایا گیا ہے۔غرض میں اس کو چہ سے ذاتی واقفیت رکھتا ہوں اور میں زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ایسا ہی ضرور مرنے کے بعد ہر ایک کو ایک جسم ملتا ہے خواہ نورانی خواہ ظلماتی۔انسان کی یہ غلطی ہوگی اگر وہ ان نہایت باریک معارف کو صرف عقل کے ذریعہ سے ثابت کرنا چاہے بلکہ جاننا چاہئے کہ جیسا کہ آنکھ شیریں چیز کا مزہ نہیں بتلا سکتی اور نہ زبان کسی چیز کو دیکھ سکتی ہے۔ایسا ہی وہ علوم معاد جو پاک مکاشفات سے حاصل ہو سکتے ہیں صرف عقل کے ذریعہ سے ان کا عقدہ حل نہیں ہوسکتا۔خدا نے اس دنیا میں مجہولات کے جاننے کے لئے علیحدہ علیحدہ وسائل رکھے ہیں۔پس ہر ایک چیز کو اس کے وسیلہ کے ذریعہ سے ڈھونڈو تب اُسے پالو گے۔ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدا نے ان لوگوں کو جو بدکاری اور گمراہی میں پڑ گئے اپنے کلام میں مردہ کے نام سے موسوم کیا ہے اور نیکو کاروں کو زندہ قرار دیا ہے۔اس میں بھید یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے غافل ہوئے ان کی زندگی کے اسباب جو کھانا پینا اور شہوتوں کی پیروی تھی منقطع ہو گئے اور روحانی غذا سے ان کو کچھ حصہ نہ تھا۔پس وہ در حقیقت مر گئے اور وہ صرف عذاب اُٹھانے کے لئے زندہ ہوں گے۔اسی بھید کی طرف اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے۔جیسا کہ وہ کہتا ہے مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى لا یعنی جو شخص مجرم بن کر خدا کے پاس آئے گا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے وہ اس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا مگر جو لوگ خدا کے طه : ۷۵