حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 426

11+A ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام زندہ بجسده العصری آسمان پر اُٹھائے گئے اور پھر کسی وقت آسمان پر سے زمین پر تشریف لائیں گے اور ان کا فوت ہو جانا مخالف نصوص قرآنیہ واحادیث صحیحہ ہے۔سو چونکہ آپ نے مجھے اس دعوے میں مخالف قرآن و حدیث قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے ہزار ہا مسلمانوں میں بدظنی کا فتنہ برپا ہو گیا ہے لہذا آپ پر فرض ہے کہ مجھ سے اس بات کا تصفیہ کر لیں کہ آیا ایسا عقیدہ رکھنے میں میں نے قرآن اور حدیث کو چھوڑ دیا ہے یا آپ ہی چھوڑ بیٹھے ہیں۔اگر آپ یا حضرت!! ایک جلسہ بحث مقرر کر کے میرے دلائل پیش کردہ جو صرف قرآن اور احادیث صحیحہ کی رُو سے بیان کروں گا توڑ دیں اور ان سے بہتر دلائل حیات مسیح ابن مریم پر پیش کریں اور آیات صریحہ بینہ قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کے منطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا بجسده العنصری زندہ ہونا ثابت کر دیں تو میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔اور تمام کتابیں جو اس مسئلہ کے متعلق تالیف کی ہیں جس قدر میرے گھر میں موجود ہیں سب جلا دوں گا اور بذریعہ اخبارات اپنی تو بہ اور رجوع کے بارے میں عام اطلاع دے دوں گا وَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى كَاذِبِ يَخْفى فِي قَلْبِهِ مَا يَخَافُ بَيَانَ لِسَانِهِ گریہ بھی یادر کھئے کہ اگر آپ ہی مغلوب ہو گئے اور کوئی صریحۃ الدلالة آیت اور حدیث صحیح مرفوع متصل پیش نہ کر سکے تو آپ کو بھی اپنے اس انکار شدید سے تو بہ کرنی پڑے گی۔والـلـه يـحـب التوابين - اب میں یا حضرت !! آپ کو اس رب جلیل تعالی و تقدس کی قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو پیدا کر کے اپنی بے شمار نعمتوں سے ممنون فرمایا کہ اگر آپ کا یہی مذہب ہے کہ قرآن کریم میں مسیح ابن مریم کی زندگی کے بارے میں آیات صریحہ بینہ قطعیۃ الدلالت موجود ہیں اور اُن کی تائید میں احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ اپنے منطوق سے شہادت دیتی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو میرے الہامی دعوی کی نسبت مومنانہ حسن ظن کو الوداع کہہ کر سخت انکار کرنا پڑا تو اس خدا وند کریم سے ڈر کر جس کی میں نے ابھی آپ کو قسم دی ہے میرے ساتھ اِظْهَارًا لِلْحَقِّ بحث کیجئے۔اب میں یا حضرت !! پھر اللہ جل شانہ کی آپ کو قسم دے کر اس بحث کے لئے بلاتا ہوں۔جس جگہ چاہیں حاضر ہو جاؤں۔اگر آپ اس مسئلہ میں بحث کرنے کیلئے نہ آئے اور مفسد طبع ملانوں پر بھروسہ رکھ کر کوٹھری میں چھپ گئے تو یا درکھو کہ تمام ہندوستان و پنجاب میں ذلت اور بدنامی کے ساتھ آپ مشہور ہو جائیں گے اور شیخ الکل ہونے کی تمام رونق جاتی رہے گی۔