حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 425
11+2 مجھے مخطی خیال کرتے ہیں یا ملحد اور ماول تصور فرماتے ہیں اور میرے قول کو خلاف قال اللہ قال الرسول گمان کرتے ہیں تو حضرات موصوفہ پر فرض ہے کہ عامہ خلائق کو فتنہ سے بچانے کے لئے اس مسئلہ میں اسی شہر دہلی میں میرے ساتھ بحث کر لیں۔بحث میں صرف تین شرطیں ہوں گی۔(۱) اوّل یہ کہ امن قائم رہنے کے لئے وہ خود سرکاری انتظام کراویں۔کیونکہ میں مسافر ہوں اور اپنی عزیز قوم کا مورد عتاب اور ہر طرف سے اپنے بھائیوں مسلمانوں کی زبان سے سب اور لعن وطعن اپنی نسبت سنتا ہوں۔(۲) دوسرے یہ کہ فریقین کی بحث تحریری ہو۔ہر ایک فریق مجلس بحث میں اپنے ہاتھ سے سوال لکھ کر اور اس پر اپنے دستخط کر کے پیش کرے اور ایسا ہی فریق ثانی لکھ کر جواب دیوے کیونکہ زبانی بیانات محفوظ نہیں رہ سکتے۔(۳) تیسری شرط یہ کہ بحث وفات حیات مسیح میں ہو اور کوئی شخص قرآن کریم اور کتب حدیث سے باہر نہ جائے۔مگر صحیحین کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے اور بخاری کو مسلم پر کیونکہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مسیح ابن مریم کی حیات طریقہ مذکورہ بالا سے جو واقعات صحیحہ کے معلوم کرنے کے لئے خیر الطرق ہے ثابت ہو جائے تو میں اپنے الہام سے دست بردار ہو جاؤں گا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ قرآن کریم سے مخالف ہو کر کوئی الہام صحیح نہیں ٹھہر سکتا۔تبلیغ رسالت جلد دوم صفحه ۲۴ - ۲۵ - مجموعه اشتہارات جلد اوّل صفحه ۲۱۷ بار دوم ) الله جَلَّ شَانُه کی قسم دے کر مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب کی خدمت میں بحث حیات و ممات مسیح ابن مریم کے لئے درخواست ندارد کسے باتو ناگفتہ کار و لیکن چو گفتی دلیلش بیار کے اے مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب آپ نے اور آپ کے شاگردوں نے دنیا میں شور ڈال دیا ہے کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز دعوی مسیح موعود ہونے میں مخالف قرآن وحدیث بیان کر رہا ہے اور ایک نیا مذہب و نیا عقیدہ نکالا ہے جو سراسر مغائر تعلیم اللہ ورسول اور بہ بداہت باطل ہے کیونکہ قرآن اور حدیث سے یہ لے اور تجھ سے تیرے نا گفتہ پر کوئی سروکار نہیں لیکن جو تو نے کہا اس پر تو دلیل لا۔