حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 400

۱۰۸۲ ہیں۔گو اس کی سمیت اور تعلقات کی وجہ عقلی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ۔مگر نفس تعلق سے انکار نہیں ہو سکتا۔غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔کان اگر دیکھ نہ سکیں تو ان کا کیا قصور؟ وہ اور قوت کا کام ہے۔ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔انسان میت سے کلام کر سکتا ہے۔روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے اور یہ امر کہ کس جگہ تعلق ہے کشفی قوت خود ہی بتلا دے گی۔الحکم مورخه ۲۳ جنوری ۱۸۹۹ء صفحہ ۳۲۔ملفوظات جلد اوّل صفحه ۱۸۹ تا ۱۹۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) روح کوئی مکانی چیز نہیں ہے اس کے تعلقات مجهول الکنہ ہوتے ہیں۔مرنے کے بعد ایک تعلق روح کا قبر کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور کشف قبور کے وقت ارباب مکاشفات پر وہ تعلق ظاہر ہوتا ہے کہ صاحب قبور اپنی اپنی قبروں میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ ان سے صاحب کشف کے مخاطبات و مکالمات بھی واضح ہو جاتے ہیں۔یہ بات احادیث صحیحہ سے بھی بخوبی ثابت ہے۔صلوۃ فی القبر کی حدیث مشہور ہے اور احادیث سے ثابت ہے کہ مُردے جوتی کی آواز بھی سن لیتے ہیں اور السلام علیکم کا جواب دیتے ہیں۔باوجود اس کے ایک تعلق اُن کا آسمان سے بھی ہوتا ہے اور اپنے نفسی نقطہ کے مکان پر اُن کا تمثل مشاہدہ میں آتا ہے اور ان کا رفع مختلف درجات سے ہوتا ہے۔بعض پہلے آسمان تک رہ جاتے ہیں۔بعض دوسرے تک بعض تیسرے تک لیکن موت کے بعد رفع رُوح بھی ضرور ہوتا ہے جیسا کہ حدیث صحیح اور آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ا صریح اشارہ کر رہی ہے لیکن ان کا آسمان پر ہونا یا قبروں میں ہونا ایک مَجْهُولُ الْكُنَہ امر ہے۔الحق مباحثہ دہلی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۲۱۵) الاعراف ام