حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 389
1+21 بلکہ اپنی صفات سے معطل ہونے کا نام بھی موت ہے۔ورنہ جسم جو مرجاتا ہے بہر حال مٹی اس کی تو موجود رہتی ہے۔اسی طرح رُوح کی موت سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ اپنی صفات سے معطل کی جاتی ہے۔جیسا کہ عالم خواب میں دیکھا جاتا ہے کہ جیسے جسم اپنے کاموں سے بیکار ہو جاتا ہے۔ایسا ہی رُوح بھی اپنی ان صفات سے جو بیداری میں رکھتے تھے بکلی معطل ہو جاتی ہے۔مثلاً ایک زندہ کی رُوح کسی میت سے خواب میں ملاقات کرتی ہے اور نہیں جانتی کہ وہ میت ہے اور سونے کے ساتھ ہی بکلی اس دنیا کو بھول جاتی ہے اور پہلا چولا اُتار کر نیا چولا پہن لیتی ہے اور تمام علوم جو رکھتی تھی سب کے سب به یکبارگی فراموش کر دیتی ہے اور کچھ بھی اس دنیا کا یاد نہیں رکھتی بجز اس صورت کے کہ خدا یاد دلاوے اور اپنے تصرفات سے بکلی معطل ہو جاتی ہے اور سچ مچ خدا کے گھر میں جا پہنچتی ہے اور اس وقت تمام حرکات اور کلمات اور جذبات اس کے خدا تعالیٰ کے تصرفات کے نیچے ہوتے ہیں اور اس طور سے خدا تعالیٰ کے تصرفات کے نیچے وہ مغلوب ہوتی ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ جو کچھ عالم خواب میں کرتی یا کہتی یا سنتی یا حرکت کرتی ہے وہ اپنے اختیار سے کرتی ہے بلکہ تمام اختیاری قوت اس کی مسلوب ہو جاتی ہے۔اور کامل طور پر موت کے آثار اس پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔سو جس قدر جسم پر موت آتی ہے اس سے بڑھ کر روح پر موت وارد ہو جاتی ہے۔مجھے ایسے لوگوں سے سخت تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی حالت خواب پر بھی غور نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ اگر رُوح موت سے مستثنیٰ رکھی جاتی تو وہ ضرور عالم خواب میں بھی مستثنیٰ رہتی۔ہمارے لئے خواب کا عالم موت کے عالم کی کیفیت سمجھنے کے لئے ایک آئینہ کے حکم میں ہے۔جو شخص رُوح کے بارے میں سچی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ خواب کے عالم پر بہت غور کرے کہ ہر ایک پوشیدہ راز موت کا خواب کے ذریعہ سے کھل سکتا ہے۔اگر تم عالم خواب کے اسرار پر جیسا کہ چاہئے توجہ کرو گے اور جس طور سے عالم خواب میں روح پر ایک موت وارد ہوتی ہے اور اپنے علوم اور صفات سے وہ الگ ہو جاتی ہے اس طور پر نظر تدبر ڈالو گے تو تمہیں یقین ہو جائے گا کہ موت کا معاملہ خواب کے معاملہ سے ملتا جلتا ہے۔پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ رُوح مفارقت بدن کے بعد اسی حالت پر قائم رہتی ہے جو حالت دنیا میں وہ رکھتی تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ایسی ہی موت اس پر وارد ہو جاتی ہے جیسا کہ خواب کی حالت میں وارد ہوئی تھی۔بلکہ وہ حالت اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہر ایک صفت اس کی نیستی کی چکی کے اندر پیسی جاتی ہے اور وہی رُوح کی موت ہوتی ہے۔اور پھر جولوگ زندہ ہونے کے کام کرتے تھے وہی زندہ کئے جاتے ہیں۔کسی روح کی مجال نہیں کہ آپ زندہ رہ سکے۔