حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 388
بد استعالی کی وجہ سے وہ صفات ناقص انسانوں میں مکروہ صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔مثلاً حسد انسان میں ایک بہت بُرا خلق ہے جو چاہتا ہے کہ ایک شخص سے ایک نعمت زائل ہو کر اس کو مل جائے لیکن اصل کیفیت حسد کی صرف اس قدر ہے کہ انسان اپنے کسی کمال کے حصول میں یہ روا نہیں رکھتا کہ اس کمال میں اس کا کوئی شریک بھی ہو۔پس در حقیقت یہ صفت خدا تعالیٰ کی ہے جو اپنے تئیں ہمیشہ وحدہ لاشریک دیکھنا چاہتا ہے پس ایک قسم کی بد استعمالی سے یہ عمدہ صفت قابل نفرت ہوگئی ہے۔ورنہ اس طرح پر یہ صفت مذموم نہیں کہ کمال میں سب سے زیادہ سبقت چاہے اور روحانیت میں تفرد اور یکتائی کے درجہ پر اپنے تئیں دیکھنا چاہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۹۰،۳۸۹) اور یہ کہنا کہ اگر روح مخلوق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ فنا بھی ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ روح بے شک فنا پذیر ہے۔اس پر دلیل یہ ہے کہ جو چیز اپنی صفات کو چھوڑتی ہے اس حالت میں اس کو فانی کہا جاتا ہے۔اگر کسی دوا کی تاثیر بالکل باطل ہو جائے تو اس حالت میں ہم کہیں گے کہ وہ دوا مر گئی۔ایسا ہی روح میں یہ امر ثابت ہے کہ بعض حالات میں وہ اپنی صفات کو چھوڑ دیتی ہے بلکہ اُس پر جسم سے بھی زیادہ تغیرات وارد ہوتے ہیں۔انہی تغیرات کے وقت کہ جب وہ رُوح کو اُس کی صفات سے دُور ڈال دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ رُوح مرگئی۔کیونکہ موت اسی بات کا نام ہے کہ ایک چیز اپنی لازمی صفات کو چھوڑ دیتی ہے تب کہا جاتا ہے کہ وہ چیز مرگئی اور یہی بھید ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فقط انہیں انسانی روحوں کو بعد مفارقت دنیا زندہ قرار دیا ہے جن میں وہ صفات موجود تھے جو اصل غرض اور علت غائی ان کی پیدائش کی تھی۔یعنی خدا تعالیٰ کی کامل محبت اور اُس کی کامل اطاعت جو انسانی روح کی جان ہے۔اور جب کوئی روح خدا تعالیٰ کی محبت سے پُر ہو کر اور اس کی راہ میں قربان ہو کر دنیا سے جاتی ہے تو اُسی کو زندہ روح کہا جاتا ہے۔باقی سب مُردہ روحیں ہوتی ہیں۔غرض رُوح کا اپنی صفات سے الگ ہونا یہی اُس کی موت ہے۔چنانچہ حالت خواب میں بھی جب جسم انسانی مرتا ہے تو روح بھی ساتھ ہی مرجاتی ہے یعنی اپنی صفات موجودہ کو جو بیداری کی حالت میں تھیں چھوڑ دیتی ہے اور ایک قسم کی موت اُس پر وارد ہو جاتی ہے کیونکہ خواب میں وہ صفات اس میں باقی نہیں رہتیں جو بیداری میں اس کو حاصل ہوتی ہیں۔سو یہ بھی ایک قسم موت کی ہے کیونکہ جو چیز اپنی صفات سے الگ ہو جائے اس کو زندہ نہیں کہہ سکتے۔اکثر لوگ موت کے لفظ پر بہت دھو کہ کھاتے ہیں موت صرف معدوم ہونے کا نام نہیں