حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 369

۱۰۵۱ پابند ہو جائیں تب تو وہ فسق و فجور اور زنا کاری اور بدکاری سے رُک جاتے ہیں۔اور یہ طریق اُن کو متقی اور پر ہیز گار بنا دیتا ہے۔ورنہ نفسانی شہوات کا ئند اور تیز سیلاب بازاری عورتوں کے دروازہ تک ان کو پہنچا دیتا ہے آخر آتشک اور سوزاک خرید تے اور کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔اور وہ کام فسق و فجور کے چھپے چھپے اور کھلے کھلے ان سے صادر ہوتے ہیں جن کی نظیر ان لوگوں میں ہرگز نہیں پائی جاتی جن کی دو دو تین تین دل پسند بیویاں ہوتی ہیں۔یہ لوگ تھوڑی مدت تک تو اپنے تئیں روکتے ہیں آخر اس قدر یکدفعہ ان کی ناجائز شہوات جوش میں آتی ہے کہ جیسے ایک دریا کا بند ٹوٹ کر وہ دریا دن کو یا رات کو تمام اردگرد کے دیہات کو تباہ کر دیتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ تمام کام نیت پر موقوف ہیں۔جو لوگ اپنے اندر یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسری بیوی کرنے سے اُن کے تقویٰ کا سامان پورا ہو جائے گا اور وہ فسق و فجور سے بچ جائیں گے یا یہ کہ وہ اس ذریعہ سے اپنی صالح اولاد چھوڑ جائیں گے تو ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ضرور اس بابرکت کام سے حصہ لیں۔خدا کی جناب میں بدکاری اور بدنظری ایسے ناپاک گناہ ہیں جن سے نیکیاں باطل ہو جاتی ہیں اور آخر اسی دنیا میں جسمانی عذاب نازل ہو جاتے ہیں۔پس اگر کوئی تقویٰ کے محکم قلعہ میں داخل ہونے کی نیت سے ایک سے زیادہ بیویاں کرتا ہے اس کے لئے صرف جائز ہی نہیں بلکہ یہ عمل اس کے لئے موجب ثواب ہے جو شخص اپنے تئیں بدکاری سے روکنے کے لئے تعد دازواج کا پابند ہوتا ہے وہ گویا اپنے تئیں فرشتوں کی طرح بنانا چاہتا ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ یہ اندھی دنیا صرف جھوٹی منطقوں اور جھوٹی شیخیوں میں گرفتار ہے وہ لوگ جو تقویٰ کی تلاش میں لگے نہیں رہتے کہ کیونکر حاصل ہو اور تقویٰ کے حصول کے لئے کوئی تدبیر نہیں کرتے اور نہ دُعا کرتے ہیں اُن کی حالتیں اُس پھوڑے کی مانند ہیں جو اوپر سے بہت چمکتا ہے مگر اس کے اندر بجز پیپ کے اور کچھ نہیں اور خدا کی طرف جھکنے والے جو کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کرتے وہ تقویٰ کی راہوں کو یوں ڈھونڈتے پھرتے ہیں جیسا کہ ایک گدا روٹی کو اور جولوگ خدا کی راہ میں مصیبتوں کی آگ میں پڑتے ہیں جن کا دل ہر وقت مغموم رہتا ہے اور خدا کی راہ میں بڑے مقاصد مگر دشوار گذار ان کی رُوح کو تحلیل کرتے اور کمر کو توڑتے رہتے ہیں اُن کے لئے خدا خود تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنے دن یا رات میں سے چند منٹ اپنی مانوس بیویوں کے ساتھ بسر کریں اور اس طرح پر اپنے کوفتہ اور شکتہ نفس کو آرام پہنچا دیں اور پھر سرگرمی سے اپنے دینی کام میں مشغول ہو جاویں۔ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھتا مگر وہ جو اس راہ میں مذاق رکھتے ہیں۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۶ ۲۴ تا ۲۴۸)