حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 368

۱۰۵۰ کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرا لیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا۔اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بے شک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا۔لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھا وے اور حکم شرع پر راضی ہووے تو اس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بے جا ہو گا اور اس جگہ یہ مشل صادق آئے گی کہ ”میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تو تعدد ازواج فرض واجب نہیں کیا ہے۔خدا کے حکم کی رُو سے صرف جائز ہے۔پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کردہ قانون کی رو سے ہے اور اس کی پہلی بیوی اس پر راضی نہ ہو تو اس بیوی کے لئے یہ راہ کشادہ ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اور اگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے اس نکاح پر راضی نہ ہو تو اس کے لئے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کو انکاری جواب دے دے کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عورتیں اس نکاح پر راضی ہو جاویں تو اس صورت میں کسی آریہ کو خواہ نخواہ دخل دینے اور اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ کیا اس مرد نے اُن عورتوں سے نکاح کرنا ہے یا اس آریہ سے جس حالت میں خدا نے تعد دازواج کو کسی موقعہ پر انسانی ضرورتوں میں جائز رکھا ہے اور ایک عورت اپنے خاوند کے دوسرے نکاح میں رضا مندی ظاہر کرتی ہے اور دوسری عورت بھی اس نکاح پر خوش ہے تو کسی کا حق نہیں ہے کہ اُن کے اس باہمی فیصلہ کو منسوخ کر دے اور اس جگہ یہ بحث پیش کرنا کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا پہلی بیوی کے حق میں ظلم ہے اور طریق اعتدال کے برخلاف ہے یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کی تعصب سے عقل ماری گئی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ حقوق عباد کے متعلق ہے۔اور جو شخص دو بیویاں کرتا ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کا حرج نہیں۔اگر حرج ہے تو اس بیوی کا جو پہلی بیوی ہے یا دوسری بیوی کا پس اگر پہلی بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی سمجھتی ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پا سکتی ہے۔اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ خلع کرا سکتی ہے۔اور اگر دوسری بیوی اپنا کچھ حرج سمجھتی ہے تو وہ اپنے نفع نقصان کو خود سمجھتی ہے۔پس یہ اعتراض کرنا کہ اس طور سے اعتدال ہاتھ سے جاتا ہے خواہ نخواہ کا دخل ہے۔اور با ایں ہمہ خدا تعالیٰ نے مردوں کو وصیت فرمائی ہے کہ اگر ان کی چند بیویاں ہوں تو ان میں اعتدال رکھیں ورنہ ایک ہی بیوی پر قناعت کریں۔اور یہ کہنا کہ تعد دازواج شہوت پرستی سے ہوتا ہے یہ بھی سراسر جاہلانہ اور متعصبانہ خیال ہے۔ہم نے تو اپنی آنکھوں کے تجربہ سے دیکھا ہے کہ جن لوگوں پر شہوت پرستی غالب ہے۔اگر وہ تعد دازواج کی مبارک رسم کے