حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 323

۱۰۰۵ ملک کی انہوں نے سیر نہیں کی اس کی اصلاح کے واسطے جھوٹی تجویزیں پیش کرتے ہیں۔ان کی عمریں دنیوی دھندوں میں گذرتی ہیں۔دینی معاملات کی ان کو کچھ خبر ہی نہیں۔کم کھانا اور بھوک برداشت کرنا بھی تزکیہ نفس کے واسطے ضروری ہے اس سے کشفی طاقت بڑھتی ہے انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بالکل ابدی زندگی کا خیال چھوڑ دینا اپنے اوپر قہر الہی کا نازل کرنا ہے مگر روزہ دار کو خیال رکھنا چاہئے کہ روزے سے صرف یہ مطلب نہیں کہ انسان بھوکا رہے بلکہ خدا کے ذکر میں بہت مشغول رہنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان شریف میں بہت عبادت کرتے تھے۔ان ایام میں کھانے پینے کے خیالات سے فارغ ہو کر اور ان ضرورتوں سے انقطاع کر کے تبتل الی اللہ حاصل کرنا چاہئے۔بدنصیب ہے وہ شخص جس کو جسمانی روٹی ملی مگر اُس نے روحانی روٹی کی پرواہ نہیں کی۔جسمانی روٹی سے جسم کو قوت ملتی ہے ایسا ہی روحانی روٹی رُوح کو قائم رکھتی ہے اور اس سے روحانی قولی تیز ہوتے ہیں۔خدا سے فتحیاب ہونا چاہو کہ تمام دروازے اس کی توفیق سے کھلتے ہیں۔ایسا ہی ایک عبادت حج کی ہے مگر حج ایسا نہیں چاہئے کہ حرام حلال کا جو روپیہ جمع ہوا ہو اس کو لے کر انسان سمندر کو چیرتا ہوا رسمی طور پر حج کو پورا کر آوے اور اس جگہ کے کہلانے والے جو کچھ منہ سے کہلاتے جاویں وہ کہہ کر واپس آ جاوے اور ناز کرے کہ میں حج کر آیا ہوں۔خدا تعالیٰ کا جو مطلب حج سے ہے وہ اس طرح پورا نہیں ہوتا۔اصل بات یہ ہے کہ سالک کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ وہ انقطاع نفس کر کے تعشق باللہ اور محبت الہی میں غرق ہو جاوے۔عاشق اور محب جو سچا ہوتا ہے وہ اپنی جان اور اپنا دل قربان کر دیتا ہے اور بیت اللہ کا طواف اس قربانی کے واسطے ایک ظاہری نشان ہے جیسا کہ ایک بیت اللہ نیچے زمین پر ہے ایسا ہی ایک آسمان پر بھی ہے۔جب تک آدمی اُس کا طواف نہ کرے اس کا طواف بھی نہیں ہوتا۔اس کا طواف کرنے والا تو تمام کپڑے اتار کر ایک کپڑا بدن پر رکھ لیتا ہے لیکن اُس کا طواف کرنے والا بالکل نزع ثیاب کر کے خدا کے واسطے بنگا ہو جاتا ہے۔طواف عشاق الہبی کی ایک نشانی ہے۔عاشق اس کے گرد گھومتے ہیں گویا ان کی اپنی مرضی باقی نہیں رہی۔وہ اس کے گردا گر د قربان ہو رہے ہیں۔ایسا ہی زکوۃ ہے۔بعض لوگ زکوۃ تو دیتے ہیں مگر اس بات کا کچھ خیال نہیں رکھتے کہ یہ روپیہ حلال کی کمائی سے ہے یا حرام کی کمائی سے ہے۔دیکھو اگر ایک کتا ذبح کیا جاوے اور اُس کے ذبح کرنے کے وقت اللہ اکبر بھی کہا جاوے۔ایسا ہی ایک سؤر لوازمات ذبح کے ساتھ مارا جائے تو وہ کیا کتا یا سؤر حلال ہو جاوے گا ؟ وہ تو بہر حال حرام ہی ہے۔زکوۃ تو تزکیہ سے نکلی ہے۔اس کے