حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 322

1005 ہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے۔جو شخص کہ روزے سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت دردِ دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گر یاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ اُسے ہرگز ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔یہ ایک بار یک امر ہے کہ اگر کسی شخص پر اپنے نفس کے کسل کی وجہ سے ) روزہ گراں ہے اور وہ اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھاؤں تو فلاں فلاں عوارض لاحق ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خدا کی نعمت کو خود اپنے اوپر گراں گمان کرتا ہے کب اس ثواب کا مستحق ہوگا۔ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا میں منتظر تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جیسے اہل دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلفات شامل کر کے ان وسائل کو صحیح گردانتے ہیں۔لیکن خدا کے نزدیک وہ صحیح نہیں تکلفات کا باب بہت وسیع ہے اگر انسان خدا چاہے تو اس کے روح سے ساری عمر بیٹھ کر نماز پڑھتا رہے اور رمضان کے روزے بالکل ہی نہ رکھے مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے۔خدا جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا اُسے ثواب سے زیادہ بھی دیتا ہے۔کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شے ہے۔حیلہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں جب میں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے ملا ( کشف میں ) اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔اس سے باہر نکل۔اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کر کے اُسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہوا ہے۔(البدر مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۲ کالم نمبر ۳ صفحه ۵۳ کالم نمبر۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۵۶۴٬۵۶۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) صلوٰۃ کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔اس کے بعد روزے کی عبادت ہے۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بعض مسلمان کہلانے والے ایسے بھی ہیں جو کہ ان عبادات میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔وہ اندھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی حکمت کاملہ سے آگاہ نہیں ہیں۔تزکیہ نفس کے واسطے یہ عبادات لازمی پڑی ہوئی ہیں۔یہ لوگ جس عالم میں داخل نہیں ہوئے اس کے معاملات میں بے ہودہ دخل دیتے ہیں اور جس