حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 242
۹۲۴ دے۔ورنہ دیکھو یہ ساری عمارت گر گئی اور اس کا گرنا ایسا سخت ہوا کہ سب عیسائی عقیدے اس کے نیچے کچلے گئے۔نہ تثلیث رہی نہ کفارہ نہ گناہوں کی معافی۔خدا کی قدرت دیکھو کہ کیسا کسر صلیب ہوا !!! اب ہم صفائی اعتراض کے لئے پہلے لغت کی رو سے لعنت کے لفظ کے معنے کرتے ہیں اور پھر اعتراض کو بیان کر دیں گے۔سو جانا چاہیئے کہ لسان العرب میں کہ جو لغت کی ایک پرانی کتاب اسلامی تالیفات میں سے ہے اور ایسا ہی قطر المحیط اور محیط اور اقرب الموارد میں جو دو عیسائیوں کی تالیفات ہیں جو حال میں بمقام بیروت چھپ کر شائع ہوئی ہیں اور ایسا ہی کتب لغت کی تمام کتابوں میں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں لعنت کے معنے یہ لکھے ہیں:۔اللَّعُنُ : الإِبْعَادُ وَالطَّرَدُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مِنَ اللهِ وَ مِنَ الْخَلْقِ وَ مَنْ أَبْعَدَهُ اللَّهُ لَمْ تَلْحَقْهُ رَحْمَتُهُ وَخَلَّدَ فِي الْعَذَابِ وَاللَّعِيْنُ : الشَّيْطَانُ وَالْمَمْسُوحُ وَقَالَ الشَّمَّاحُ مَقَامُ الذَّنْبِ كَالرَّجُلِ اللَّعِيْن۔یعنی لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ لعنتی اس کو کہتے ہیں جو ہر یک خیر و خوبی اور ہر قسم کی ذاتی صلاحیت اور خدا کی رحمت اور خدا کی معرفت سے بگلی بے بہرہ اور بے نصیب ہو جائے اور ہمیشہ کے عذاب میں پڑے۔یعنی اس کا دل بگلی سیاہ ہو جائے اور بڑی نیکی سے لے کر چھوٹی نیکی تک کوئی خیر کی بات اس کے نفس میں باقی نہ رہے اور شیطان بن جائے اور اس کا اندر مسخ ہو جائے یعنی کتوں اور سوروں اور بندروں کی خاصیت اس کے نفس میں پیدا ہو جائے۔اور شماخ نے ایک شعر میں لعنتی انسان کا نام بھیٹر یا رکھا ہے۔اس مشابہت سے کہ لعنتی کا باطن مسخ ہو جاتا ہے۔تمَّ كَلَامُهُم۔ایسا ہی عرف عام میں بھی جب یہ بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص پر خدا کی لعنت ہے تو ہر یک ادنی اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ وہ شخص خدا کی نظر میں واقعی طور پر پلید باطن اور بے ایمان اور شیطان ہے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے روگردان ہے۔۔۔۔۔۔۔اس وقت ہم حضرات پادری صاحبوں سے بکمال ادب یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ در حقیقت یہ لعنت اپنے تمام لوازم کے ساتھ جیسا کہ ذکر کیا گیا یسوع پر خدا تعالیٰ کی طرف سے پڑ گئی تھی۔اور وہ خدا کی لعنت اور غضب کے نیچے آ کر سیاہ دل اور خدا سے روگردان ہو گیا تھا ؟ میرے نزدیک تو ایسا شخص خود لعنتی ہے کہ ایسے برگزیدہ کا نام لعنتی رکھتا ہے جو دوسرے لفظوں میں سیاہ دل اور خدا سے برگشتہ اور شیطان سیرت کہنا چاہئے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا پیارا در حقیقت اس لعنت کے نیچے آ گیا تھا جو پوری پوری خدا کی دشمنی کے بغیر متحقق نہیں ہو سکتی۔خدا کے کسی پیارے کو ایک دم کے لئے بھی شیطان کہنا کسی شیطان کا کام ہے نہ انسان کا۔پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ