حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 241

۹۲۳ زمانہ آیا تھا کہ وہ خدا کا پیارا نہیں رہا تھا ؟ کیا اس پر وہ وقت آیا تھا کہ اُس کا دل خدا سے برگشتہ ہو گیا تھا ؟ کیا کبھی اُس نے بے ایمانی کا ارادہ کیا تھا۔کیا کبھی ایسا ہوا کہ وہ خدا کا دشمن اور خدا اس کا دشمن تھا؟ پس اگر ایسا نہیں ہوا تو اُس نے اس لعنت میں سے کیا حصہ لیا جس پر نجات کا تمام مدار ٹھہرایا گیا ہے۔کیا تو ریت گواہی نہیں دیتی کہ مصلوب لعنتی ہے؟ پس اگر مصلوب لعنتی ہوتا ہے تو بے شک وہ لعنت جو عام طور پر مصلوب ہونے کا نتیجہ ہے صیح پر پڑی ہو گی۔لیکن لعنت کا مفہوم دنیا کے اتفاق کی رو سے خدا سے دور ہونا اور خدا سے برگشتہ ہونا ہے۔فقط کسی پر مصیبت پڑنا یہ لعنت نہیں ہے بلکہ لعنت خدا سے دوری اور خدا سے نفرت اور خدا سے دشمنی ہے اور لعین لغت کی رُو سے شیطان کا نام ہے۔اب خدا کے لئے سوچو کہ کیا روا ہے کہ ایک راستباز کو خدا کا دشمن اور خدا سے برگشتہ بلکہ شیطان نام رکھا جائے اور خدا کو اس کا دشمن ٹھہرایا جائے۔بہتر ہوتا کہ عیسائی اپنے لئے دوزخ قبول کر لیتے مگر اس برگزیدہ انسان کو ملعون اور شیطان نہ ٹھہراتے۔ایسی نجات پر لعنت ہے جو بغیر اس کے جو راستبازوں کو بے ایمان اور شیطان قرار دیا جائے مل نہیں سکتی۔قرآن شریف نے یہ خوب سچائی ظاہر کی کہ مسیح کو صلیبی موت سے بچا کر لعنت کی پلیدی سے بری رکھا اور انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے کیونکہ مسیح نے یونس کے ساتھ اپنی تشبیہہ پیش کی ہے اور کوئی عیسائی اس سے بے خبر نہیں کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا تھا۔پھر اگر یسوع قبر میں مُردہ پڑا رہا تو مُردہ کو زندہ سے کیا مناسبت اور زندہ کو مُردہ سے کونسی مشابہت۔پھر یہ بھی معلوم ہے کہ یسوع نے صلیب سے نجات پا کر شاگردوں کو اپنے زخم دکھائے۔پس اگر اس کو دوبارہ زندگی جلالی طور پر حاصل ہوئی تھی تو اس پہلی زندگی کے زخم کیوں باقی رہ گئے۔کیا جلال میں کچھ کسر باقی رہ گئی تھی ؟ اور اگر کسر رہ گئی تھی تو کیونکر اُمید رکھیں کہ وہ زخم پھر کبھی قیامت تک مل سکیں گے۔یہ بیہودہ قصے ہیں جن پر خدائی کا شہتیر رکھا گیا ہے مگر وقت آتا ہے بلکہ آگیا کہ جس طرح روئی کو دھنکا جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ ان تمام قصوں کو ذرہ ذرہ کر کے اُڑا دے گا۔(سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۵،۶۴) عیسائیوں کا یہ ایک متفق علیہ عقیدہ ہے کہ یسوع مصلوب ہو کر تین دن کے لئے لعنتی ہو گیا تھا۔اور تمام مدار نجات کا اُن کے نزدیک اسی لعنت پر ہے۔تو اس لعنت کے مفہوم کی رو سے ایک ایسا سخت اعتراض وارد ہوتا ہے جس سے تمام عقیدہ تثلیث اور کفارہ اور نیز گناہوں کی معافی کا مسئلہ کالعدم ہو کر اس کا باطل ہونا بدیہی طور پر ثابت ہو جاتا ہے۔اگر کسی کو اس مذہب کی حمایت منظور ہے تو جلد جواب