حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 216

۸۹۸ خاتم الخلفاء ہوں جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں۔سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہمنام ہوں۔اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۷، ۱۸) اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔عیسائی لوگ در حقیقت ہمارے اس عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے۔اور آنحضرت کے بارے میں پیشگوئی کی تھی بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے ہیں جس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو بٹ مار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مکذب تھا اور اُس نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی بلکہ ایسے لوگوں کے حق میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر کوئی انسان ہو کر خدائی کا دعویٰ کرے تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے اسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کے ذکر کرنے کے وقت اس ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو بچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہئے۔ایسا آدمی اگر نابینا نہ ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔اور اگر نیک اور ایماندار ہوتا تو خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں۔تبلیغ رسالت جلد پنجم صفحه ۸۰) ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا ہے جس نے بجائے مہذبانہ کلام کے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت گالیوں سے کام لیا ہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطیبین وسید المطہرین پر سراسر افترا سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک