حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 212
۸۹۴ اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گزر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی عہ بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۱ ۴۲۰) یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں کیونکہ اس کا ثبوت نہ تو قرآن شریف سے ملتا ہے اور نہ حدیث سے اور نہ عقل اس کو باور کر سکتی ہے بلکہ قرآن اور حدیث اور عقل متینوں اس کے مکذب ہیں کیونکہ قرآن شریف نے کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور معراج کی حدیث نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ وہ فوت شدہ انبیاء علیہم السلام کی روحوں میں جا ملے ہیں اور اس عالم سے بکلی انقطاع کر گئے۔اور عقل ہمیں بتلا رہی ہے کہ اس جسم فانی کے لئے یہ سنت اللہ نہیں کہ آسمان پر چلا جائے اور باوجود زندہ مع الجسم ہونے کے کھانے پینے اور تمام لوازم حیات سے الگ ہو کر ان روحوں میں جا ملے جو موت کا پیالہ پی کر دوسرے جہان میں پہنچ گئے ہیں۔عقل کے پاس اس کا کوئی نمونہ نہیں۔پھر ماسوا اس کے جیسا کہ یہ عقیدہ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر چڑھنے کا قرآن شریف کے بیان سے مخالف ہے ایسا ہی ان کے آسمان سے اترنے کا عقیدہ بھی قرآن کے بیان سے منافات کلی رکھتا ہے کیونکہ قرآن شریف جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ا اور آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ہے میں حضرت عیسی کو مار چکا ہے ایسا ہی آیت اليوم اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم سے اور آیت وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ ے میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت علی خاتم الانبیاء ہیں جیسا کہ فرمایا ہے وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ لیکن وہ لوگ جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں ان کا یہ عقیدہ کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر پینتالیس برس تک ان پر جبرائیل علیہ السلام وحی نبوت لے کر نازل ہوتا رہے گا۔اب بتلاؤ کہ ان کے عقیدہ کے موافق ختم نبوت اور ختم وحی نبوت کہاں باقی رہا بلکہ ماننا پڑا کہ خاتم الانبیاء حضرت عیسیٰ ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۷۳ ۱۷۴) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت سے استدلال کرنا کہ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ شے صاف دلالت کرتا ہے کہ اُن کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے تھے کیونکہ اگر اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ پہلے نبیوں میں سے بعض نبی تو جناب خاتم الانبیاء المائدة: ۱۱۸ ۵۲ ال عمران: ۱۴۵ المائدة: الاحزاب: ام