حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 211

۸۹۳ اس کے کتابی اصول کی تنسیخ پائی جاتی ہے۔اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اتر نا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے لہذا یہ بحث بھی ( کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا جو دنیا میں اس کو حاصل تھا ) اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا جبکہ یہ بات قرار پائی تو اول ہمیں اس عقیدہ پر نظر ڈالنی چاہئے جو اصل قرار دیا گیا ہے کہ کہاں تک وہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کیونکہ اگر اصل کا کما حقہ تصفیہ ہو جائے گا تو پھر اس کی فرع ماننے میں کچھ تامل نہیں ہوگا اور کم سے کم امکانی طور پر ہم قبول کر سکیں گے کہ جبکہ ایک شخص کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو گیا ہے تو پھر اسی جسم کے ساتھ واپس آنا اس کا کیا مشکل ہے لیکن اگر اصل بحث قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو سکے بلکہ حقیقت امر اس کے مخالف ثابت ہو تو ہم فرع کو کسی طرح سے تسلیم نہیں کر سکتے۔اگر فرع کی تائید میں بعض حدیثیں بھی ہونگی تو ہم پر فرض ہو گا کہ ان کو اصل سے تطبیق دینے کیلئے کوشش کریں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۳۶،۲۳۵) زمانہ حال کے مسلمان ایک طرف تو ہمارے نبی علیہ کی وفات اور زمین میں مدفون ہونے کا اقرار کر کے پھر اس بات کے بھی اقراری ہو کر کہ مسیح اب تک زندہ ہے عیسائیوں کے ہاتھ میں ایک تحریری اقرار اپنا دے دیتے ہیں کہ مسیح اپنے خواص میں عام انسانوں کے خواص بلکہ تمام انبیاء کے خواص سے مستثنیٰ اور نرالا ہے۔کیونکہ جبکہ ایک افضل البشر جو مسیح سے چھ سو برس پیچھے آیا تھوڑی سی عمر پا کر فوت ہو گیا اور تیرہ سو برس اس نبی کریم کے فوت ہونے پر گزر بھی گئے مگر مسیح اب تک فوت ہونے میں نہیں آیا تو کیا اس سے یہی ثابت ہوا یا کچھ اور کہ مسیح کی حالت لوازم بشریت سے بڑھی ہوئی ہے۔پس حال کے علماء اگر چہ بظاہر صورت شرک سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں مگر مشرکوں کو مدد دینے میں کوئی دقیقہ انہوں نے اٹھا نہیں رکھا۔غضب کی بات ہے کہ اللہ جل شانہ تو اپنی پاک کلام میں حضرت مسیح کی وفات ظاہر کرے اور یہ لوگ اب تک اس کو زندہ سمجھ کر ہزار ہا اور بے شمار فتنے اسلام کے لئے برپا کر دیں اور مسیح کو آسمان کا حی و قیوم اور سید الانبیاء ﷺ کو زمین کا مردہ ٹھہرا دیں۔حالانکہ مسیح کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِی اسْمُةَ أَحْمَدُ ے یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اس کا احمد ہوگا۔پس الصف: