حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 196

خبر دی گئی ہے جس کا مصداق حسب اعلام و الہام الہی یہی عاجز ہے اور مجھے یقیناً معلوم ہے کہ میری اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بینات الہام سے قائم کیا گیا ہوں بہت سی قلمیں مخالفانہ طور پر اٹھیں گی اور ایک تعجب اور انکار سے بھرا ہوا شور عوام میں پیدا ہوگا۔بائیبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور اور میں سا بھی ہے۔دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسی اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔انہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔لیکن حضرت اور میں نے کی نسبت جو بائیل میں یوحنا یا ایلیا کے نام سے پکارے گئے ہیں انجیل میں یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ یحیی بن زکریا کے پیدا ہونے سے ان کا آسمان سے اترنا وقوع میں آ گیا ہے چنانچہ حضرت مسیح صاف صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ یوحنا جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو سو ایک نبی کے محکمہ سے ایک آسمان پر جانے والے اور پھر کسی وقت اترنے والے یعنی یوحنا کا مقدمہ تو انفصال پا گیا اور دوبارہ اترنے کی حقیقت اور کیفیت معلوم ہوگئی۔چنانچہ تمام عیسائیوں کا متفق علیہ عقیدہ جوانجیل کے رو سے ہونا چاہیے یہی ہے کہ یوحنا جس کے آسمان سے اترنے کا انتظار تھا وہ حضرت مسیح کے وقت میں آسمان سے اس طرح پر اتر آیا کہ ذکریا کے گھر میں اسی طبع اور خاصیت کا بیٹا ہوا جس کا نام بیچی تھا۔البتہ یہودی اس کے اترنے کے اب تک منتظر ہیں۔ان کا بیان ہے کہ وہ سچ سچ آسمان سے اترے گا۔بہر حال آسمان سے اترنے کا لفظ جو تاویل رکھتا ہے مسیح کے بیان سے اس کی حقیقت ظاہر ہوئی اور انہی کے بیان سے یوحنا کے آسمان سے اترنے کا جھگڑا طے ہوا اور یہ بات کھل گئی کہ آخر اترے تو کس طرح اُترے مگر مسیح کے اترنے کے بارے میں اب تک بڑے جوش سے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عمدہ اور شاہانہ پوشاک قیمتی پار چات کی پہنے ہوئے فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اتریں گے۔مگر ان دو قوموں کا اس پر اتفاق نہیں کہ کہاں اتریں گے۔آیا مکہ معظمہ میں یا لندن کے کسی گرجا میں یا ماسکو کے شاہی کلیسیا میں۔اگر عیسائیوں کو پرانے خیالات کی تقلید رہزن نہ ہو تو وہ مسلمانوں کی نسبت بہت جلد سمجھ سکتے ہیں کہ میسج کا اتر نا اسی تشریح کے موافق چاہئے جو خود حضرت مسیح کے بیان سے صاف لفظوں میں معلوم ہو چکی لے ۲۰ الیاس پڑھا جائے کشمس