حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 159
۸۴۱ ہیں اور صفات باری جیسے ازلی ہیں ویسے ابدی بھی ہیں اور ان کو مشاہدہ کے طور پر دکھلانے والے محض انبیاء علہیم السلام ہیں اور نفی صفات باری نفی وجود باری کو مستلزم ہے۔اس تحقیق سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے لئے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا کس قدر ضروری ہے کہ بغیر ان کے خدا پر ایمان لانا ناقص اور نا تمام رہ جاتا ہے اور نیز آیات محکمات کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ ان کی شہادت نہ محض کثرت آیات سے بلکہ عملی طور پر بھی ملتی ہے یعنی خدا کے نبیوں کی متواتر شہادت ان کے بارہ میں پائی جاتی ہے جیسا کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف اور دوسرے نبیوں کی کتابوں کو دیکھے گا اس کو معلوم ہوگا کہ نبیوں کی کتابوں میں جس طرح خدا پر ایمان لانے کی تاکید ہے ایسا ہی اس کے رسولوں پر بھی ایمان لانے کی تاکید ہے اور متشابہات کی یہ علامت ہے کہ ان کے ایسے معنے ماننے سے جو مخالف محکمات ہیں فساد لا زم آتا ہے۔اور نیز دوسری آیات سے جو کثرت کے ساتھ ہیں مخالف پڑتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے کلام میں تناقض ممکن نہیں اس لئے جو قلیل ہے بہر حال کثیر کے تابع کرنا پڑتا ہے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اوّل۔۔سے آخر تک اللہ کے لفظ کو انہی معنوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ وہ رسولوں اور نبیوں اور کتابوں کا بھیجنے والا اور زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا اور فلاں فلاں صفت سے متصف اور واحد لاشریک ہے ہاں جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں پہنچا اور وہ بالکل بے خبر ہیں ان سے ان کے علم اور عقل اور فہم کے موافق مواخذہ ہوگا لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ وہ ان مدارج اور مراتب کو پالیں جو رسول کریم کی پیروی سے لوگوں کو ملیں گے۔کیونکہ جن منازل تک باعث پیروی نور رسالت پیروی کرنے والے پہنچ سکتے ہیں محض اندھے نہیں پہنچ سکتے اور یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔پھر اس ظلم کو تو دیکھو کہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف کی صد ہا آیتیں بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ نری تو حید موجب نجات نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے ساتھ رسول کریم پر ایمان لانا شرط ہے پھر بھی میاں عبدالحکیم خان ان آیات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے اور یہودیوں کی طرح ایک دو آیت جو مجمل طور پر واقع ہیں ان کے الٹے معنے کر کے بار بار پیش کرتے ہیں۔ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ان آیات کے یہی معنی ہیں جو عبدالحکیم پیش کرتا ہے تب اسلام دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور جو کچھ نبی کریم علے نے احکام مثل نماز روزہ وغیرہ کے سکھلائے ہیں وہ سب کچھ بے ہودہ اور لغو اور عبث ٹھہرتا ہے کیونکہ اگر یہی بات ہے کہ ہر ایک شخص اپنی خیالی توحید سے نجات پاسکتا ہے تو پھر نبی کی تکذیب کچھ بھی گناہ نہیں اور نہ مرتد ہونا کسی کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔پس یادر ہے کہ قرآن شریف میں کوئی بھی ایسی آیت