حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 158

۸۴۰ رکھتا ہے بغیر اس کے کہ رسول کے ذریعہ سے ان کا پتہ لگے کیونکر ان پر یقین آ سکتا ہے۔اور اگر یہ صفات مشاہدہ کے رنگ میں ثابت نہ ہوں تو خدا تعالیٰ کا وجود ہی ثابت نہیں ہوتا تو اس صورت میں اس پر ایمان لانے کے کیا معنے ہوں گے؟ اور جو شخص خدا پر ایمان لاوے ضرور ہے کہ اس کے صفات پر بھی ایمان لاوے اور یہ ایمان اس کو نبیوں پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرے گا کیونکہ مثلاً خدا کا کلام کرنا اور بولنا بغیر ثبوت خدا کی کلام کے کیونکر سمجھ آ سکتا ہے اور اس کلام کو پیش کرنے والے مع اس کے ثبوت کے صرف نبی ہیں۔پھر یہ بھی واضح ہو کہ قرآن شریف میں دو قسم کی آیات ہیں۔ایک محکمات اور بینات جیسا کہ یہ آیت اِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ تُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا۔أوليكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَاعْتَدُنَا لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا مُهِيِّنًا یعنی جو لوگ ایسا ایمان لانا نہیں چاہتے جو خدا پر بھی ایمان لاویں اور اس کے رسولوں پر بھی اور چاہتے ہیں کہ خدا کو اس کے رسولوں سے علیحدہ کر دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں۔یعنی خدا پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر نہیں یا بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں اور ارادہ کرتے ہیں که بین بین راہ اختیار کر لیں یہی لوگ واقعی طور پر کافر اور پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔یہ تو آیات محکمات ہیں جن کی ہم ایک بڑی تفصیل ابھی لکھ چکے ہیں۔دوسری قسم کی آیات متشابہات ہیں جن کے معنے باریک ہوتے ہیں اور جو لوگ راسخ فی العلم ہیں ان لوگوں کو ان کا علم دیا جاتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ آیات محکمات کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور محکمات کی علامت یہ ہے کہ محکمات آیات خدا تعالیٰ کے کلام میں بکثرت موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کا کلام ان سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور ان کے معنے کھلے کھلے ہوتے ہیں اور ان کے نہ ماننے سے فساد لازم آتا ہے۔مثلاً اسی جگہ دیکھ لو کہ جو شخص محض خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اس کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتا اس کو خدا تعالیٰ کی صفات سے منکر ہونا پڑتا ہے۔مثلاً ہمارے زمانہ میں برہمو جو ایک نیا فرقہ ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر نبیوں کو نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ کے کلام سے منکر ہیں اور ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ سنتا ہے تو بولتا بھی ہے۔پس اگر اس کا بولنا ثابت نہیں تو سننا بھی ثابت نہیں۔اس طرح پر ایسے لوگ صفات باری سے انکار کر کے دہریوں کے رنگ میں ہو جاتے ل النساء: ۱۵۲،۱۵۱