حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 154

۸۳۶ بعض نادانوں کو جو یہ وہم گزرتا ہے کہ گویا نجات کے لئے صرف تو حید کافی ہے۔نبی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں۔گویا وہ روح کو جسم سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں۔یہ وہم سراسر دلی کوری پر مبنی ہے۔صاف ظاہر ہے کہ جبکہ تو حید حقیقی کا وجود ہی نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور بغیر اس کے ممتنع اور محال ہے تو وہ بغیر نبی پر ایمان لانے کے میسر کیونکر آ سکتی ہے اور اگر نبی کو جو جڑ تو حید کی ہے ایمان لانے میں علیحدہ کر دیا جائے تو تو حید کیونکر قائم رہے گی۔توحید کا موجب اور توحید کا پیدا کرنے والا اور توحید کا باپ اور توحید کا سر چشمہ اور توحید کا مظہر اتم صرف نبی ہی ہوتا ہے۔اسی کے ذریعہ سے خدا کا مخفی چہرہ نظر آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے۔بات یہ ہے کہ ایک طرف تو حضرت احدیت جلّ شانہ کی ذات نہایت درجہ استغنا اور بے نیازی میں پڑی ہے۔اس کو کسی ہدایت اور ضلالت کی پروا نہیں اور دوسری طرف وہ بالطبع یہ بھی تقاضا فرماتا ہے کہ وہ شناخت کیا جائے اور اس کی رحمت از لی سے لوگ فائدہ اٹھاویں۔پس وہ ایسے دل پر جو اہل زمین کے تمام دلوں میں سے محبت اور قرب اوسبحانہ کا حاصل کرنے کے لئے کمال درجہ پر فطرتی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔اور نیز کمال درجہ کی ہمدردی بنی نوع کی اس کی فطرت میں ہے تجلی فرماتا ہے۔اور اس پر اپنی ہستی اور صفات از لیہ ابدیہ کے انوار ظاہر کرتا ہے۔اور اس طرح وہ خاص اور اعلیٰ فطرت کا آدمی جس کو دوسرے لفظوں میں نبی کہتے ہیں اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔پھر وہ نبی بوجہ اس کے کہ ہمدردی بنی نوع کا اس کے دل میں کمال درجہ پر جوش ہوتا ہے اپنی روحانی تو جہات اور تضرع اور انکسار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا جو اس پر ظاہر ہوا ہے دوسرے لوگ بھی اس کو شناخت کریں اور نجات پاویں۔اور وہ دلی خواہش سے اپنے وجود کی قربانی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس تمنا سے کہ لوگ زندہ ہو جائیں کئی موتیں اپنے لئے قبول کر لیتا ہے اور بڑے مجاہدات میں اپنے تئیں ڈالتا ہے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ تب اگر چہ خدا مخلوق سے بے نیاز اور مستغنی ہے مگر اس کے دائی غم اور حزن اور کرب وقلق اور تذلل اور نیستی اور نہایت درجہ کے صدق اور صفا پر نظر کر کے مخلوق کے مستعد دلوں پر اپنے نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دیتا ہے اور اس کی پر جوش دعاؤں کی تحریک سے جو آسمان پر ایک صعبناک شور ڈالتی ہے خدا تعالیٰ کے نشان زمین پر بارش کی طرح برستے ہیں اور عظیم الشان خوارق دنیا کے لوگوں کو دکھلائے جاتے ہیں جن سے دنیا دیکھ لیتی ہے کہ خدا ہے اور خدا کا چہرہ نظر آ جاتا ہے لیکن اگر وہ پاک نبی اس قدر ل الشعراء: