حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 153
۸۳۵ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا حکم دیا تو سالک کا کام یہ ہوگا کہ اوّل رسول اکرم کی کل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے۔اسی کا نام سلوک ہے۔اس راہ میں بہت مصائب و شدائد ہوتے ہیں۔ان سب کو اٹھانے کے بعد ہی انسان سالک ہوتا ہے۔اہل جذ بہ کا درجہ سالکوں سے بڑھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں سلوک پر ہی نہیں رکھتا بلکہ خود ان کو مصائب میں ڈالتا اور جاذبہ ازلی سے اپنی طرف کھینچتا ہے۔کل انبیاء مجذوب ہی تھے جس وقت انسانی روح کو مصائب کا مقابلہ ہوتا ہے۔ان سے فرسودہ کار اور تجربہ کار ہو کر روح چمک اٹھتی ہے۔جیسے لوہایا شیشہ اگر چہ چمک کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے لیکن صیقلوں کے بعد ہی محبی ہوتا ہے حتی کہ اس میں منہ دیکھنے والے کا نظر آ جاتا ہے۔مجاہدات بھی صیقل کا ہی کام کرتے ہیں۔دل کا صیقل یہاں تک ہونا چاہئے کہ اس میں سے بھی منہ نظر آ جاوے۔منہ کا نظر آنا کیا ہے؟ تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ الله کا مصداق ہونا۔سالک کا دل آئینہ ہے جس کو مصائب شدائد اس قدر صیقل کر دیتے ہیں کہ اخلاق النبی اس میں منعکس ہو جاتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب بہت مجاہدات اور تزکیوں کے بعد اس کے اندر کسی قسم کی کدورت یا کثافت نہ رہے تب یہ درجہ نصیب ہوتا ہے۔ہر ایک مومن کو ایک حد تک ایسی صفائی کی ضرورت ہے۔کوئی مومن بلا آئینہ ہونے کے نجات نہ پائے گا۔سلوک والا خود یہ صیقل کرتا ہے اپنے کام سے مصائب اٹھاتا ہے لیکن جذب والا مصائب میں ڈالا جاتا ہے۔خدا خود اس کا مصقل ہوتا ہے اور طرح طرح کے مصائب شدائد سے صیقل کر کے اس کو آئینہ کا درجہ عطا کر دیتا ہے۔دراصل سالک و مجذوب دونوں کا ایک ہی نتیجہ ہے۔سو تقی کے دو حصے ہیں سلوک و جذ بہ۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۴۳ ۴۴ - ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۷، ۱۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) انبیاء کی ضرورت خدا نے اپنی ذات پر ایمان لانا رسولوں پر ایمان لانے سے وابستہ کیا ہے۔اس میں راز یہ ہے کہ انسان میں تو حید قبول کرنے کی استعداد اس آگ کی طرح رکھی گئی ہے جو پتھر میں مخفی ہوتی ہے اور رسول کا وجود چقماق کی طرح ہے جو اس پتھر پر ضرب توجہ لگا کر اس آگ کو باہر نکالتا ہے پس ہرگز ممکن نہیں کہ بغیر رسول کی چقماق کے تو حید کی آگ کسی دل میں پیدا ہو سکے۔تو حید کوصرف رسول زمین پر لاتا ہے اور اسی کی معرفت یہ حاصل ہوتی ہے۔خدا مخفی ہے اور وہ اپنا چہرہ رسول کے ذریعہ دکھلاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۳۱)