حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 77
LL کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسی مسیح خدا کا پیارا خدا کا برگزیدہ اور دنیا کا نور اور ہدایت کا آفتاب اور جناب الہی کا مقرب اور اس کے تخت کے نزدیک مقام رکھتا ہے اور کروڑہا انسان جو اس سے سچی محبت رکھتے ہیں اور اس کی وصیتوں پر چلتے ہیں اور اس کی ہدایات کے کار بند ہیں وہ جہنم سے نجات پائیں گے۔لیکن بائیں یہ سخت غلطی اور کفر ہے کہ اس برگزیدہ کو خدا بنایا جائے۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ جب روحانی اور آسمانی باتیں عوام کے ہاتھ میں آتی ہیں تو وہ ان کی جڑ تک پہونچ نہیں سکتے آخر کچھ بگاڑ کر اور کچھ مجاز کو حقیقت پر حمل کر کے سخت غلطی اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔سو اسی غلطی میں آجکل کے علماء مسیحی بھی گرفتار ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنا دیا جائے۔سو یہ حق تلفی خالق کی ہے اور اس حق کے قائم کرنے کے لئے اور توحید کی عظمت دلوں میں بٹھانے کے لئے ایک بزرگ نبی ملک عرب میں گذرا ہے جس کا نام محمد اور احمد تھا۔خدا کے اُس پر بے شمار سلام ہوں۔شریعت دو حصوں پر منقسم تھی۔بڑا حصہ یہ تھا کہ إِلهَ إِلَّا الله یعنی توحید۔اور دوسرا حصہ یہ کہ ہمدردی نوع انسان کرو اور ان کے لئے وہ چاہو جو اپنے لئے۔سو ان دوحصوں میں سے حضرت مسیح نے ہمدردی نوع انسان پر زور دیا کیونکہ وہ زمانہ اسی زور کو چاہتا تھا۔اور دوسرا حصہ جو بڑا حصہ ہے یعنی لا إله إلا الله جو خدا کی عظمت اور توحید کا سر چشمہ ہے اُس پر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے زور دیا کیونکہ وہ زمانہ اسی قسم کے زور کو چاہتا تھا۔پھر بعد اس کے ہمارا زمانہ آیا جس میں اب ہم ہیں۔اس زمانہ میں یہ دونوں قسم کی خرابیاں کمال درجہ تک پہونچ گئی تھیں یعنی حقوق عباد کا تلف کرنا اور بے گناہ بندوں کا خون کرنا مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہو گیا تھا اور اس غلط عقیدہ کی وجہ سے ہزار ہا بے گنا ہوں کو وحشیوں نے نہ تیغ کر دیا تھا اور پھر دوسری طرف حقوق خالق کا تلف کرنا بھی کمال کو پہونچ گیا تھا اور عیسائی عقیدہ میں یہ داخل ہو گیا تھا۔سو اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا اور مجھے خو اور بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسی مسیح کا اوتار کر کے بھیجا ایسا ہی اُس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا۔اور مجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامعہ محمدی پہنا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار بنا دیا۔سو میں ان معنوں کر کے عیسی مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی۔مسیح ایک لقب ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دیا گیا تھا جس کے معنی ہیں خدا کو چھونے والا اور خدائی انعام میں سے کچھ لینے والا اور اس کا خلیفہ اور