حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 679
۶۷۹ اُس کی دعا کوسن تو لیتا ہے اور اس کے لئے جو کچھ اپنی حکمت کا ملہ کے رُو سے مناسب اور اصلح دیکھتا ہے عطا بھی فرماتا ہے لیکن نادان انسان خدا کی اُن الطاف خفیہ کو شناخت نہیں کرتا اور باعث اپنے جہل اور بے خبری کے شکوہ اور شکایت شروع کر دیتا ہے اور اس آیت کے مضمون کو نہیں سمجھتا۔عسی آن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَلَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ لے۔یعنی یہ ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے اچھی ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے بُری ہو اور خدا چیزوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۳۰، ۴۳۱ حاشیه در حاشیہ نمبر۱۱) خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ فاتحہ میں دعا کرنے کا ایسا طریقہ حسنہ بتلایا ہے جس سے خوب تر طریقہ پیدا ہو نا ممکن نہیں اور جس میں وہ تمام امور جمع ہیں جو دعا میں دلی جوش پیدا کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ قبولیت دعا کے لئے ضرور ہے کہ اُس میں ایک جوش ہو کیونکہ جس دعا میں جوش نہ ہو وہ صرف لفظی بڑ بڑ ہے حقیقی دعا نہیں۔مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ دعا میں جوش پیدا ہونا ہر یک وقت انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ انسان کے لئے اشد ضرورت ہے کہ دُعا کرنے کے وقت جو امور دلی جوش کے محرک ہیں وہ اس کے خیال میں حاضر ہوں اور یہ بات ہر یک عاقل پر روشن ہے کہ دلی جوش پیدا کرنے والی صرف دو ہی چیزیں ہیں۔ایک خدا کو کامل اور قادر اور جامع صفات کا ملہ خیال کر کے اس کی رحمتوں اور کرموں کو ابتدا سے انتہا تک اپنے وجود اور بقا کے لئے ضروری دیکھنا اور تمام فیوض کا مبدء اسی کو خیال کرنا۔دوسرے اپنے تئیں اور اپنے تمام ہم جنسوں کو عاجز اور مفلس اور خدا کی مدد کا محتاج یقین کرنا یہی دو امر ہیں جن سے دعاؤں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور جو جوش دلانے کے لئے کامل ذریعہ ہیں۔وجہ یہ کہ انسان کی دُعا میں تب ہی جوش پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے تئیں سراسر ضعیف اور ناتواں اور مدد الہی کا محتاج دیکھتا ہے۔اور خدا کی نسبت نہایت قوی اعتقاد سے یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بغایت درجہ کامل القدرت اور رب العالمین اور رحمن اور رحیم اور مالک امر مجازات ہے اور جو کچھ انسانی حاجتیں ہیں سب کا پورا کرنا اُسی کے ہاتھ میں ہے۔سوسورۃ فاتحہ کے ابتدا میں جو اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان فرمایا گیا ہے کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو تمام محامد کا ملہ سے متصف اور تمام خوبیوں کی جامع البقرة : ۲۱۷