حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 678 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 678

۶۷۸ ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسرں کے لئے نہیں کرتا۔یہی وہ خوارق ہے۔غرض دعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشتِ خاک کو کیمیا کر دیتی ہے۔اور وہ ایک پانی ہے جو اندر دنی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔اس دعا کے ساتھ رُوح پچھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانۂ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھلائی ہے۔اور رُوح کا کھڑا ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کے لئے ہر ایک مصیبت کی برداشت اور حکم ماننے کے بارے میں مستعدی ظاہر کرتی ہے اور اس کا رکوع یعنی جھکنا یہ ہے کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھک آتی ہے اور خدا کے لئے ہو جاتی ہے اور اس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گر کر اپنے تئیں بکلی کھو دیتی ہے اور اپنے نقش وجود کو مٹا دیتی ہے۔یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے۔اور شریعت اسلامی نے اس کی تصویر معمولی نماز میں کھینچ کر دکھلائی ہے تاوہ جسمانی نماز روحانی نماز کی طرف محرک ہو۔کیونکہ خدا تعالے نے انسان کے وجود کی ایسی بناوٹ پیدا کی ہے کہ روح کا اثر جسم پر اور جسم کا اثر روح پر ضرور ہوتا ہے۔جب تمہاری روح غمگین ہو تو آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔اور جب روح میں خوشی پیدا ہو تو چہرہ پر بشاشت ظاہر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ انسان بسا اوقات ہنسنے لگتا ہے۔ایسا ہی جب جسم کو کوئی تکلیف اور درد پہنچے تو اس درد میں روح بھی شریک ہوتی ہے۔اور جب جسم گھلی ٹھنڈی ہوا سے خوش ہو تو روح بھی اس سے کچھ حصہ لیتی ہے پس جسمانی عبادات کی غرض یہ ہے کہ روح اور جسم کے باہمی تعلقات کی وجہ سے روح میں حضرت احدیت کی طرف حرکت پیدا ہو اور وہ روحانی قیام اور رکوع اور سجود میں مشغول ہو جائے۔(لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۲ تا ۲۲۴) یہ شبہ کرنا کہ یہ استعانت بعض اوقات کیوں بے فائدہ اور غیر مفید ہوتی ہے اور کیوں خدا کی رحمانیت و رحیمیت ہر یک وقت استعانت میں تجلّی نہیں فرماتی ؟ پس یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط فہمی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ان دعاؤں کو کہ جو خلوص کے ساتھ کی جائیں ضرور سنتا ہے اور جس طرح مناسب ہو مدد چاہنے والوں کے لئے مدد بھی کرتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی استمداد اور دعا میں خلوص نہیں ہوتا۔نہ انسان دلی عاجزی کے ساتھ امداد البہی چاہتا ہے اور نہ اس کی روحانی حالت درست ہوتی ہے بلکہ اس کے ہونٹوں میں دعا اور اُس کے دل میں غفلت یا ریاء ہوتی ہے یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا