حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 672
۶۷۲ جوش روحانی ہمیشہ اور ہر جگہ ظہور میں نہیں آتا۔اور تحریکات خارجیہ کا محتاج ہوتا ہے یہ اس لئے کہ جیسا کہ خدائے کریم بے نیاز ہے اس نے اپنے برگزیدوں میں بھی بے نیازی کی صفت رکھ دی ہے سو وہ خدا کی طرح سخت بے نیاز ہوتے ہیں اور جب تک کوئی پوری خاکساری اور اخلاص کے ساتھ ان کے رحم کے لئے ایک تحریک پیدا نہ کرے وہ قوت اُن کی جوش نہیں مارتی اور عجیب تر یہ کہ وہ لوگ تمام دنیا سے زیادہ تر رحم کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں مگر اس کی تحریک اُن کے اختیار میں نہیں ہوتی۔گو وہ بار ہا چاہتے بھی ہیں کہ وہ قوت ظہور میں آوے مگر بجز ارادہ الہیہ کے ظاہر نہیں ہوتی۔بالخصوص وہ منکروں اور منافقوں اور ست اعتقاد لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح اون کو سمجھتے ہیں اور وہ بے نیازی اُن کی ایسی شان رکھتی ہے جیسا کہ ایک معشوق نہایت خوبصورت برقعہ میں اپنا چہرہ چھپائے رکھے اور اسی بے نیازی کا ایک شعبہ یہ ہے کہ جب کوئی شریر انسان ان پر بدظنی کرے تو بسا اوقات بے نیازی کے جوش سے اس بدظنی کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں کیونکہ مخلق باخلاق اللہ رکھتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فِي قُلُوبِهِمُ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا۔جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ کوئی معجزہ ان سے ظاہر ہو تو اُن کے دلوں میں ایک جوش پیدا کر دیتا ہے اور ایک امر کے حصول کے لئے سخت کرب اور قلق اُن کے دلوں میں پیدا ہو جاتا ہے تب وہ بے نیازی کا برقع اپنے منہ پر سے اتار لیتے ہیں اور وہ حسن اُن کا جو بجز خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں دیکھتا وہ آسمان کے فرشتوں پر اور ذرہ ذرہ پر نمودار ہو جاتا ہے۔اور ان کا منہ پر سے برقع اٹھانا یہ ہے کہ وہ اپنے کامل صدق اور صفا کے ساتھ اور اس روحانی حسن کے ساتھ جس کی وجہ سے وہ خدا کے محبوب ہو گئے ہیں اُس خدا کی طرف ایک ایسا خارق عادت رجوع کرتے ہیں اور ایک ایسے اقبال علی اللہ کی ان میں حالت پیدا ہو جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی فوق العادت رحمت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ساتھ ہی ذرہ ذرہ اس عالم کا کھنچا چلا آتا ہے اور اُن کی عاشقانہ حرارت کی گرمی آسمان پر جمع ہوتی اور بادلوں کی طرح فرشتوں کو بھی اپنا چہرہ دکھا دیتی ہے۔اور ان کی درد میں جو رعد کی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں ایک سخت شور ملا اعلیٰ میں ڈال دیتی ہیں۔تب خدا تعالیٰ کی قدرت سے وہ بادل پیدا ہو جاتے ہیں جن سے رحمت الہی کا وہ مینہ برستا ہے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔اُن کی روحانیت جب اپنے پورے سوز و گداز کے ساتھ کسی عقدہ کشائی کے لئے توجہ کرتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے کیونکہ وہ لوگ باعث اس کے جو خدا سے ذاتی البقرة: