حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 671 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 671

۶۷۱ خدا کے نشان تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے مقبول ستائے جاتے ہیں اور جب حد سے زیادہ اُن کو دکھ دیا جاتا ہے تو سمجھو کہ خدا کا نشان نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر کیونکہ یہ وہ قوم ہے کہ کوئی اپنے پیارے بیٹے سے ایسی محبت نہیں کرے گا جیسا کہ خدا ان لوگوں سے کرتا ہے جو دل و جان سے اس کے ہو جاتے ہیں۔وہ اُن کے لئے عجائب کام دکھلاتا ہے اور ایسی اپنی قوت دکھلاتا ہے کہ جیسا ایک سوتا ہوا شیر جاگ اٹھتا ہے۔خدا مخفی ہے اور اس کے ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہیں۔وہ ہزاروں پر دوں کے اندر ہے اور اس کا چہرہ دکھلانے والی یہی قوم ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے یہ سراسر غلط ہے۔بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے کبھی وہ ان کی دعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت اُن سے منوانا چاہتا ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اُس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اس سے منوانا چاہتا ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں مومنوں کی استجابت دعا کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم لے یعنی تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور دوسری جگہ اپنی نازل کردہ قضاء و قدر پر خوش اور راضی رہنے کی تعلیم کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ ن مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔پس ان دونوں آیتوں کو ایک جگہ پڑھنے سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ دعاؤں کے بارے میں کیا سنت اللہ ہے اور رب اور عبد کا کیا باہمی تعلق ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۱،۲۰) بعض جاہل کہتے ہیں کہ کیوں کامل لوگوں کی بعض دعائیں منظور نہیں ہوتیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُن کی تجلی حسن کو خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے۔پس جس جگہ یہ تجلی عظیم ظاہر ہو جاتی ہے اور کسی معاملہ میں اُن کا حسن جوش میں آتا ہے اور اپنی چمک دکھلاتا ہے تب اس چمک کی طرف ذرات عالم کھنچے جاتے ہیں اور غیر ممکن باتیں وقوع میں آتی ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں معجزہ کہتے ہیں۔مگر یہ المؤمن: ٦١ البقرة: ۱۵۶ ۱۵۷