حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 660
نہ ہوئی ؟ مگر ایسا خیال کرنے والا اور ٹھو کر کھانے والا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تلون کو سوچے تو اُسے معلوم ہو جائے کہ یہ ساری نامرادیاں اُس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہیں جن پر خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بدظنی اور نامراد کرنے والی مایوسی بڑھ گئی۔پس کبھی تھکنا نہیں چاہئے۔دعا کی ایسی ہی حالت ہے جیسے ایک زمیندار باہر جا کر اپنے کھیت میں ایک بیج بو آتا ہے اب بظاہر تو یہ حالت ہے کہ اُس نے اچھے بھلے اناج کو مٹی کے نیچے دبا دیا۔اس وقت کوئی کیا سمجھ سکتا ہے کہ یہ دانہ ایک عمدہ درخت کی صورت میں نشو و نما پا کر پھل لائے گا۔باہر کی دنیا اور خود زمیندار بھی نہیں دیکھ سکتا کہ یہ دانہ اندر ہی اندر زمین میں ایک پودہ کی صورت اختیار کر رہا ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانہ گل کر اندر ہی اندر پودا بنے لگتا ہے اور طیار ہوتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ اس کا سبزہ او پر نکل آتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔اب دیکھو وہ دانہ جس وقت سے زمین کے نیچے ڈالا گیا تھا۔دراصل اُسی ساعت سے وہ پودا بننے کی طیاری کرنے لگ گیا تھا مگر ظاہر بین نگاہ اس سے کوئی خبر نہیں رکھتی اور اب جبکہ اس کا سبزہ باہر نکل آیا تو سب نے دیکھ لیا۔لیکن ایک نادان بچہ اُس وقت یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کو اپنے وقت پر پھل لگے گا۔وہ یہ چاہتا ہے کہ کیوں اُسی وقت اُس کو پھل نہیں لگتا مگر عقل مند زمیندار خوب سمجھتا ہے کہ اس کے پھل کا کونسا موقع ہے۔وہ صبر سے اس کی نگرانی کرتا اور غور و پرداخت کرتا رہتا ہے اور اس طرح پر وہ وقت آ جاتا ہے کہ جب اُس کو پھل لگتا اور وہ پک بھی جاتا ہے۔یہی حال دعا کا ہے اور بعینہ اسی طرح دعا نشو ونما پاتی اور مثمر ثمرات ہوتی ہے۔جلد باز پہلے ہی تھک کر رہ جاتے ہیں اور صبر کرنے والے مآل اندیش استقلال کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں۔یہ سچی بات ہے کہ دعا میں بڑے بڑے مراحل اور مراتب ہیں جن کی ناواقفیت کی وجہ سے دعا کرنے والے اپنے ہاتھ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ان کو ایک جلدی لگ جاتی ہے اور وہ صبر نہیں کر سکتے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں ایک تدریج ہوتی ہے۔دیکھو یہ کبھی نہیں ہوتا کہ آج انسان شادی کرے تو کل کو اُس کے گھر بچہ پیدا ہو جاوے۔حالانکہ وہ قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے مگر جو قانون اور نظام اس نے مقرر کر دیا ہے وہ ضروری ہے۔پہلے نباتات کی نشو ونما کی طرح کچھ پتہ ہی نہیں لگتا۔چار مہینے تک کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتا۔پھر کچھ حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوری میعاد گذرنے پر بہت بڑی تکالیف برداشت کرنے کے بعد بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔بچہ کا پیدا ہونا ماں کا بھی ساتھ ہی پیدا ہونا ہوتا