حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 659
۶۵۹ لاسکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر دعا کی فلاسفی غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک رحم مانگنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔مانگتے جاؤ ملتا جائے گا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم لے کوئی لفاظی نہیں بلکہ یہ انسانی سرشت کا ایک لازمہ ہے۔مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے بچہ کی مثال جو میں نے بیان کی ہے وہ دعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحه ۸۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب وغریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔(الحکم ۷ار دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲ کالم نمبر ا ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۴۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب دعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف قبولیت دعا کے ہوتے ہیں بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہو گئی ہے۔بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں اور جو دعا کے منکر تو نہیں اُن کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ چونکہ اُن کی دعائیں بوجہ آداب الدعا کی ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں دعا ہوتی ہی نہیں اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں۔اُن کی عملی حالت نے دوسروں کو دہریت کے قریب پہونچا دیا ہے۔دعا کے لئے سب سے اوّل اس امر کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے اور اللہ تعالیٰ پر یہ سوءظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس قدر دعا کی گئی ہے کہ جب مقصد کا شگوفہ سرسبز ہونے کے قریب ہوتا ہے دعا کرنے والے تھک گئے ہیں جس کا نتیجہ نا کامی اور نامرادی ہو گیا ہے اور اس نامرادی نے یہاں تک بُرا اثر پہونچایا ہے کہ پھر دعا کی تاثیرات کا انکار شروع ہوا اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک نوبت پہونچ جاتی ہے کہ پھر خدا کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دعاؤں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دعا کی گئی ہے کیوں قبول المؤمن: ٦١