حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 644
۶۴۴ نہایت لطیف وجود رکھتے ہیں۔پس کس طرح ان آنکھوں سے نظر آ دیں۔کیا خدا تعالیٰ جس کا وجودان فلسفیوں کے نزدیک بھی مسلم ہے ان فانی آنکھوں سے نظر آتا ہے؟ ماسوا اس کے یہ بات بھی درست نہیں کہ کسی طرح نظر ہی نہیں آ سکتے۔کیونکہ عارف لوگ اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے جوا کثر بیداری میں ہوتے ہیں فرشتوں کو روحانی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور ان سے باتیں کرتے ہیں اور کئی علوم ان سے اخذ کرتے ہیں اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو مفتری کذاب کو بغیر ذلیل اور معذب کرنے کے نہیں چھوڑتا کہ میں اس بیان میں صادق ہوں کہ بار ہا عالم کشف میں میں نے ملائک کو دیکھا ہے اور اُن سے بعض علوم اخذ کئے ہیں۔اور اُن سے گذشتہ یا آنے والی خبریں معلوم کی ہیں جو مطابق واقعہ تھیں۔پھر میں کیونکر کہوں کہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آ سکتے۔بلاشبہ نظر آ سکتے ہیں مگر اور آنکھوں سے اور جیسے یہ لوگ ان باتوں پر بنتے ہیں عارف ان کی حالتوں پر روتے ہیں۔اگر صحبت میں رہیں تو کشفی طریقوں سے مطمئن ہو سکتے ہیں۔لیکن مشکل تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں کی کھوپڑی میں ایک قسم کا تکبر ہوتا ہے۔وہ تکبر انہیں اس قدر بھی اجازت نہیں دیتا کہ انکسار اور تذلل اختیار کر کے طالب حق بن کر حاضر ہو جائیں۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸ تا ۱۸۳ حاشیه ) از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ خدا تعالیٰ کو فرشتوں سے کام لینے کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس کی بادشاہی بھی انسانی سلطنتوں کی طرح عملہ کی محتاج ہے اور اُس کو بھی فوجوں کی حاجت تھی جیسی انسان کو حاجت ہے؟ اما الجواب۔پس واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کو کسی چیز کی حاجت نہیں۔نہ فرشتوں کی نہ آفتاب کی نہ ماہتاب کی نہ ستاروں کی۔لیکن اسی طرح اس نے چاہا کہ تا اس کی قدرتیں اسباب کے توسط سے ظاہر ہوں اور تا اس طرز سے انسانوں میں حکمت اور علم پھیلے۔اگر اسباب کا توسط درمیان نہ ہوتا تو نہ دنیا میں علم ہیئت ہوتا نہ نجوم۔نہ طبعی نہ طبابت نہ علم نباتات۔یہ اسباب ہی ہیں جن سے علم پیدا ہوئے۔تم سوچ کر دیکھو کہ اگر فرشتوں سے خدمت لینے سے کچھ اعتراض ہے تو وہی اعتراض سورج اور چاند اور کواکب اور نباتات اور جمادات اور عناصر سے خدمت لینے میں پیدا ہوتا ہے جو شخص معرفت کا کچھ حصہ رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ ہر یک ذرہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے موافق کام کر رہا ہے اور ایک قطرہ پانی کا جو ہمارے اندر جاتا ہے وہ بھی بغیر اذن الہی کے کوئی تاثیر موافق یا مخالف ہمارے بدن پر ڈال نہیں سکتا۔پس تمام