حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 643
۶۴۳ بشریت کی بھی بو آ وے تو اس سے کیا نقصان بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تا لوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۵۔۱۱۶) اس جگہ کئی اعتراض پیدا ہوتے ہیں جن کا دفع کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ازاں جملہ ایک یہ کہ جس حالت میں روح القدس صرف اُن مقربوں کو ملتا ہے کہ جو بقاء اور لقاء کے مرتبہ تک پہنچتے ہیں تو پھر ہر ایک کا نگہبان کیونکر ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ روح القدس کا کامل طور پر نزول مقر بوں پر ہی ہوتا ہے مگر اس کی فی الجملہ تائید حسب مراتب محبت و اخلاص دوسروں کو بھی ہوتی ہے ہماری تقریر مندرجہ بالا کا صرف یہ مطلب ہے کہ روح القدس کی اعلیٰ تعلمی کی یہ کیفیت ہے کہ جب بقاء اور لقاء کے مرتبہ پر محبت الہی انسان کی محبت پر نازل ہوتی ہے تو یہ اعلی تلقی روح القدس کی ان دونوں محبتوں کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے جس کے مقابل پر دوسری تجلیات کا لعدم ہیں مگر یہ تو نہیں کہ دوسری تجلیات کا وجود ہی نہیں۔خدا تعالیٰ ایک ذرہ محبت خالصہ کو بھی ضائع نہیں کرتا۔انسان کی محبت پر اس کی محبت نازل ہوتی ہے اور اُسی مقدار پر روح القدس کی چمک پیدا ہوتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک بندھا ہوا قانون ہے کہ ہر یک محبت کے اندازہ پر الہی محبت نزول کرتی رہتی ہے۔اور جب انسانی محبت کا ایک دریا بہہ نکلتا ہے تو اس طرف سے بھی ایک دریا نازل ہوتا ہے اور جب وہ دونوں دریا ملتے ہیں تو ایک عظیم الشان نور اُن میں سے پیدا ہوتا ہے جو ہماری اصطلاح میں روح القدس سے موسوم ہے۔لیکن جیسے تم دیکھتے ہو کہ اگر ہیں سیر پانی میں ایک ماشہ مصری ڈال دی جائے تو کچھ بھی مصری کا ذائقہ معلوم نہیں ہو گا اور پانی پھیکے کا پھیکا ہی ہوگا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مصری اس میں نہیں ڈالی گئی اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پانی میٹھا ہے۔یہی حال اُس روح القدس کا ہے جو ناقص طور پر ناقص لوگوں پر اُترتا ہے۔اُس کے اترنے میں تو شک نہیں ہو سکتا کیونکہ ادنیٰ سے ادنی آدمی کو بھی نیکی کا خیال روح القدس سے پیدا ہوتا ہے۔کبھی فاسق اور فاجر اور بدکار بھی کچی خواب دیکھ لیتا ہے اور یہ سب روح القدس کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے مگر وہ تعلق عظیم جو مقدسوں اور مقربوں کے ساتھ ہے اُس کے مقابل پر یہ کچھ چیز نہیں گویا کالعدم ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۷۷ تا ۸۰ حاشیہ) واضح ہو کہ یہ خیال کہ فرشتے کیوں نظر نہیں آتے بالکل عبث ہے۔فرشتے خدا تعالیٰ کے وجود کی طرح