حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 636 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 636

۶۳۶ پہنچاتی ہے اس قانونِ قدرت سے غافل ہیں۔وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی بصارت کے لئے آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہے مگر وہ روحانی آنکھوں کے لئے کسی آسمانی روشنی کی ضرورت یقین نہیں رکھتے۔اب جبکہ یہ قانونِ الہی معلوم ہو چکا کہ یہ عالم اپنے جمیع قومی ظاہری و باطنی کے ساتھ حضرت واجب الوجود کے لئے بطور اعضاء کے واقعہ ہے۔اور ہر یک چیز اپنے اپنے محل اور موقع پر اعضاء ہی کا کام دے رہی ہے اور ہر یک ارادہ خدائے تعالیٰ کا انہی اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں آتا ہے۔کوئی ارادہ بغیر ان کی توسط کے ظہور میں نہیں آتا۔تو اب جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ کی وحی میں جو پاک دلوں پر نازل ہوتی ہے جبریل کا تعلق جو شریعت اسلام میں ایک ضروری مسئلہ سمجھا گیا اور قبول کیا گیا ہے یہ تعلق بھی اسی فلسفہ حقہ پر ہی مبنی ہے جس کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ حسب قانون قدرت مذکورہ بالا یہ امر ضروری ہے کہ وحی کے القاء یا ملکہ وحی کے عطا کرنے کے لئے بھی کوئی مخلوق خدائے تعالیٰ کے الہامی اور روحانی ارادہ کو بمنضہ ظہور لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجالا وے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجا لا رہے ہیں۔سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ سچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے یعنی جب خدائے تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے تو حسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدائے تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے اس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ وہ بھی بلا اختیار و بلا ارادہ اسی طور سے جنبش میں آ جاتا ہے کہ جیسا اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔پس جب جبریلی نور خدائے تعالیٰ کی کشش اور تحریک اور نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آ جاتا ہے تو معا اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہئے محبت صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرضِ لازم ٹھہر جاتی ہے تب یہ قوت خدائے تعالی کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لئے آنکھوں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہونے کے لئے ایک ایسی محرک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے اور جب تک یہ قوت پیدا نہ ہو اس وقت تک انسان کا دل اندھے کی