حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 635
۶۳۵ اگر چہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گا مگر ہر یک عضوا اپنی اصلی مقدار سے نہایت چھوٹا ہو کر نظر آئے گا لیکن اگر تم اپنے چہرہ کو ایک بڑے آئینہ میں دیکھنا چا ہو جو تمہاری شکل کے پورے انعکاس کے لئے کافی ہے تو تمہارے تمام نقوش اور اعضاء چہرہ کے اپنے اصلی مقدار پر نظر آ جائیں گے۔پس یہی مثال جبریل کی تاثیرات کی ہے۔ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے ولی پر بھی جبریل ہی تاثیر وحی کی ڈالتا ہے۔اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر بھی وہی جبریل تا ثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے۔لیکن ان دونوں وحیوں میں وہی فرق مذکورہ بالا آرسی کے شیشہ اور بڑے آئینہ کا ہے۔یعنی اگر چہ بظاہر صورت جبریل وہی ہے اور اُس کی تاثیرات بھی وہی مگر ہر یک جگہ مادہ قابلہ ایک ہی وسعت اور صفائی کی حالت پر نہیں۔اور یہ جو اس جگہ میں نے صفائی کا لفظ بھی لکھ دیا تو یہ اس بات کے اظہار کے لئے ہے کہ جبریلی تاثیرات کا اختلاف صرف کمیت کے ہی متعلق نہیں بلکہ کیفیت کے متعلق بھی ہے یعنی صفائی قلب جو شرط انعکاس ہے۔تمام افراد ملہمین کے ایک ہی مرتبہ پر کبھی نہیں ہوتے جیسے کہ تم دیکھتے ہو سارے آئینے ایک ہی درجہ کی صفائی ہرگز نہیں رکھتے۔بعض آئینے ایسے اعلیٰ درجہ کے آبدار اور مصفی ہوتے ہیں کہ پورے طور پر جیسا کہ چاہئے دیکھنے والے کی شکل اُن میں ظاہر ہو جاتی ہے اور بعض ایسے کثیف اور مکڈ راور پر غبار اور دود آمیز جیسے ہوتے ہیں کہ صاف طور پر اُن میں شکل نظر نہیں آتی بلکہ بعض ایسے بگڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر مثلاً اُن میں دونوں لب نظر آویں تو ناک دکھائی نہیں دیتا اور اگر ناک نظر آ گیا تو آنکھیں نظر نہیں آتیں۔سو یہی حالت دلوں کے آئینہ کی ہے۔جو نہایت درجہ کا مصفی دل ہے اُس میں مصفی طور پر انعکاس ہوتا ہے اور جو کسی قدر مکدر ہے۔اُس میں اُسی قدر مکدر دکھائی دیتا ہے اور اکمل اور اتم طور پر یہ صفائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو حاصل ہے۔ایسی صفائی کسی دوسرے کے دل کو ہر گز حاصل نہیں۔توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۵ تا ۸۸) ان لوگوں کی سمجھ پر سخت تعجب ہے کہ وہ ظاہری بارش ہونے کے لئے جو بادلوں کے ذریعہ سے زمین پر ہوتی ہے بخارات مائیہ کا توسط ضروری خیال کرتے ہیں اور خود بخود دقدرت سے بغیر بادل کے بارش ہو جانا محال سمجھتے ہیں لیکن الہام کی بارش کے لئے جو صاف دلوں پر ہوتی ہے ملائک کے بادلوں کا توسط جو عند الشرع ضروری ہے اس پر جہالت کی نظر سے ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا خدائے تعالیٰ بغیر ملائک کے توسط کے خود بخود الہام نہیں کر سکتا تھا؟ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ بغیر توسط ہوا کے آواز کا سن لینا خلاف قانونِ قدرت ہے۔مگر وہ ہوا جو روحانی طور پر خدائے تعالیٰ کی آواز کو ملہموں کے دلوں تک