حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 582
۵۸۲ استجابت ادعیہ اور کشف مغیبات اور تائید حضرت قاضی الحاجات اُس سے ظہور میں آتی ہیں کہ جس کی نظیر اس کے غیر میں نہیں پائی جاتی۔اگر مخالفین اس سے انکار کریں اور غالبا انکار ہی کریں گے تو اس کا ثبوت اس کتاب میں دیا گیا ہے۔اور یہ احقر ہر یک طالب حق کی تسلی کرنے کو طیار ہے اور نہ صرف مخالفین کو بلکہ اسمی اور رسمی موافقین کو بھی جو بظاہر مسلمان ہیں مگر مجوب مسلمان اور قالب بے جان ہیں جن کو اس پر ظلمت زمانہ میں آیات سماویہ پر یقین نہیں رہا۔اور الہاماتِ حضرتِ احدیت کو محال خیال کرتے ہیں۔اور از قبیل اوہام اور وساوس قرار دیتے ہیں۔جنہوں نے انسان کی ترقیات کا نہایت تنگ اور منقبض دائرہ بنا رکھا ہے کہ جو صرف عقلی انکلوں اور قیاسی ڈھکوسلوں پر ختم ہوتا ہے اور دوسری طرف خدائے تعالیٰ کو بھی نہایت درجہ کا کمزور اور ضعیف سا خیال کر رہے ہیں۔سو یہ عاجز ان سب صاحبوں کی خدمت میں بادب تمام عرض کرتا ہے کہ اگر اب تک تاثیرات قرآنی سے انکار ہے اور اپنے جہل قدیم پر اصرار ہے تو اب نہایت نیک موقعہ ہے کہ یہ احقر خادمین اپنے ذاتی تجارب سے ہر یک منکر کی پوری پوری اطمینان کر سکتا ہے۔اس لئے مناسب ہے کہ طالب حق بن کر اس احقر کی طرف رجوع کریں اور جو جو خواص کلام الہی کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔اس کو بچشم خود دیکھ لیں اور تاریکی اور ظلمت میں سے نکل کر نور حقیقی میں داخل ہو جائیں۔اب تک تو یہ عاجز زندہ ہے مگر وجود خا کی کی کیا بنیاد اور جسم فانی کا کیا اعتماد۔پس مناسب ہے کہ اس عام اعلان کو سنتے ہی احقاق حق اور ابطال باطل کی طرف توجہ کریں۔تا اگر دعویٰ اس احقر کا بہ پایۂ ثبوت نہ پہنچ سکے تو منکر اور روگردان رہنے کے لئے ایک وجہ موجہ پیدا ہو جائے لیکن اگر اس عاجز کے قول کی صداقت جیسا کہ چاہئے یہ پایہ ثبوت پہنچ جائے تو خدا سے ڈر کر اپنے باطل خیالات سے باز آئیں اور طریقہ حقہ اسلام پر قدم جما دیں تا اس جہان میں ذلت اور رسوائی سے اور دوسرے جہان میں عذاب اور عقوبت سے نجات پاویں۔سو دیکھواے بھائیو! اے عزیزو! اے فلاسفرو! اے پنڈ تو! اے پادریو! اے آریو! اے نیچر یو! اے براہم دھرم والو! کہ میں اس وقت صاف صاف اور اعلانیہ کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی کو شک ہو اور خاصہ مذکورہ بالا کے ماننے میں کچھ تامل ہو تو وہ بلا تو قف اس عاجز کی طرف رجوع کریں اور صبوری اور صدق دلی سے کچھ عرصہ تک صحبت میں رہ کر بیانات مذکورہ بالا کی حقیقت کو بچشم خود دیکھ لے ایسا نہ ہو کہ اس ناچیز کے گذرنے کے بعد کوئی نامنصف کہے کہ کب مجھ کو کھول کر کہا گیا کہ تا میں اس جستجو میں پڑتا۔کب کسی نے اپنی ذمہ داری سے دعوی کیا تا میں ایسے دعوی کا ثبوت اس سے مانگتا۔سواے بھائیو! اے حق کے طالبو! ادھر دیکھو کہ یہ عاجز کھول کر کہتا ہے