حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 581
۵۸۱ معلوم ہو کہ فرط تعصب نے ہمارے مخالفین کو کس درجہ کی کور باطنی اور نا بینائی تک پہنچا دیا ہے کہ جو نہایت درجہ کی روشنی ہے۔وہ ان کو تاریکی دکھائی دیتی ہے اور جو اعلیٰ درجہ کی خوشبو ہے وہ اُس کو بد بو تصور کرتے ہیں۔سواب جاننا چاہئے کہ جو اعتراض بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیم کی بلاغت پر مذکورہ بالا لوگوں نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ الرحمن الرحیم جو بسم اللہ میں واقع ہے یہ صحیح طرز پر نہیں۔اگر رحیم الرحمن ہوتا تو یہ فصیح اور صحیح طرز تھی کیونکہ خدا کا نام رحمن باعتبار اس رحمت کے ہے کہ جوا کثر اور عام ہے اور رحیم کا لفظ بہ نسبت رحمن کے اس رحمت کے لئے آتا ہے کہ جو قلیل اور خاص ہے۔اور بلاغت کا کام یہ ہے کہ قلت سے کثرت کی طرف انتقال ہو نہ یہ کہ کثرت سے قلت کی طرف۔یہ اعتراض ہے کہ ان دونوں صاحبوں نے اپنی آنکھیں بند کر کے اس کلام پر کیا ہے جس کلام کی بلاغت کو عرب کے تمام اہل زبان جن میں بڑے بڑے شاعر بھی تھے باوجو د سخت مخالفت کے تسلیم کر چکے ہیں بلکہ بڑے بڑے معاند اس کلام کی شانِ عظیم سے نہایت درجہ تعجب میں پڑ گئے اور اکثر اُن میں سے کہ جو فصیح اور بلیغ کلام کے اسلوب کو بخوبی جانے پہچانے والے اور مذاق سخن سے عارف اور با انصاف تھے وہ طرز قرآنی کو طاقت انسانی سے باہر دیکھ کر ایک معجزہ عظیم یقین کر کے ایمان لے آئے۔جن کی شہادتیں جا بجا قرآن شریف میں درج ہیں۔افسوس یہ کہ اس نادان عیسائی کو اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ بلاغت حقیقی اس امر میں محدود نہیں کہ قلیل کو کثیر پر ہر جگہ اور ہر محل میں خواہ نخواہ مقدم رکھا جائے بلکہ اصل قاعدہ بلاغت کا یہ ہے کہ اپنے کلام کو واقعی صورت اور مناسب وقت کا آئینہ بنایا جاوے۔سو اس جگہ بھی رحمان کو رحیم پر مقدم کرنے میں کلام کو واقعی صورت اور ترتیب کا آئینہ بنایا گیا ہے۔چنانچہ اس ترتیب طبعی کا مفصل ذکر ابھی سورۃ فاتحہ کی آئندہ آیتوں میں آوے گا۔( براہین احمدیہ ہر چہار تصص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۱۴ تا ۴۳۵ حاشیہ نمبر۱۱) ایک خاصہ روحانی سورۃ فاتحہ میں یہ ہے کہ دلی حضور سے اپنی نماز میں اس کو ورد کر لینا اور اُس کی تعلیم کو فی الحقیقت سچ سمجھ کر اپنے دل میں قائم کر لینا تنویر باطن میں نہایت دخل رکھتا ہے یعنی اس سے انشراح خاطر ہوتا ہے اور بشریت کی ظلمت دور ہوتی ہے اور حضرت مبدء فیوض کے فیوض انسان پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اور قبولیتِ الہی کے انوار اس پر احاطہ کر لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ ترقی کرتا کرتا مخاطبات الہیہ سے سرفراز ہو جاتا ہے اور کشوف صادقہ اور الہامات واضحہ سے تمتع تام حاصل کرتا ہے اور حضرت الوہیت کے مقربین میں دخل پالیتا ہے اور وہ وہ عجائبات القائے غیبی اور کلام لا ریبی اور