حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 551 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 551

۵۵۱ ہیں اُس پر کھلتے ہیں اور ابر نیساں کے رنگ میں معارف دقیقہ اس کے دل پر برستے ہیں۔وہی معارف دقیقہ ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے يُؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَ مَنْ يُّوْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا لا یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اُس کو خیر کثیر دی گئی ہے۔یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اُس نے خیر کثیر کو پالیا۔سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں۔یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بحر محیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الہی کے تابعین کو دئیے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حہ اُن کے نفس آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں اور تائیدات الہیہ ہر ایک تحقیق اور تدقیق کے وقت کچھ ایسا سامان اُن کے لئے میٹر کر دیتی ہیں جس سے بیان اُن کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقعہ ہوتی ہے۔سو جو جو علوم و معارف و دقائق حقائق و لطائف و نکات وادله و براہین ان کو سوجھتے ہیں وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے مرتبہ کاملہ پر واقع ہوتے ہیں کہ جو خارق عادت ہے اور جس کا موازنہ اور مقابلہ دوسرے لوگوں سے ممکن نہیں۔کیونکہ وہ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ تفہیم غیبی اور تائید صمدی اُن کی پیش رو ہوتی ہے اور اُسی تفہیم کی طاقت سے وہ اسرار اور انوار قرآنی اُن پر کھلتے ہیں کہ جو صرف عقل کی دود آمیز روشنی سے کھل نہیں سکتے اور یہ علوم و معارف جو اُن کو عطا ہوتے ہیں جن سے ذات اور صفات الہی کے متعلق اور عالم معاد کی نسبت لطیف اور بار یک باتیں اور نہایت عمیق حقیقتیں ان پر ظاہر ہوتی ہیں۔یہ ایک رُوحانی خوارق ہیں کہ جو بالغ نظروں کی نگاہوں میں جسمانی خوارق سے اعلیٰ اور الطف ہیں بلکہ غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ عارفین اور اہل اللہ کا قدر و منزلت دانشمندوں کی نظر میں انہیں خوارق سے معلوم ہوتا ہے۔اور وہی خوارق اُن کی منزلت عالیہ کی زینت اور آرائش اور اُن کے چہرہ صلاحیت کی زیبائی اور خوبصورتی ہیں کیونکہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ علوم و معارف حقہ کی ہیبت سب سے زیادہ اس پر اثر ڈالتی ہے۔اور صداقت اور معرفت ہر یک چیز سے زیادہ اس کو پیاری ہے اور اگر ایک زاہد عابد ایسا فرض کیا جائے کہ صاحب مکاشفات ہے اور اخبار غیبیہ بھی اسے معلوم ہوتے ہیں اور ریاضات شاقہ بھی بجا لاتا ہے اور کئی اور قسم کے خوارق بھی اُس سے ظہور میں آتے ہیں۔مگر علم الہی کے بارہ میں سخت جاہل ہے یہاں تک کہ حق اور باطل میں البقرة :۲۷۰