حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 550
دور کیا گیا ہے جس کے باعث سے دوسرے لوگوں کے سینے منقبض اور کوفتہ خاطر ہیں۔ایسا ہی وہ لوگ تحدیث اور مکالمات حضرت احدیت سے بکثرت مشرف ہوتے ہیں اور متواتر اور دائی خطابات کے قابل ٹھہر جاتے ہیں۔اور حق جَلَّ وَ عَلَا اور اس کے مستعد بندوں میں ارشاد اور ہدایت کے لئے واسطہ گردانے جاتے ہیں۔اُن کی نورانیت دوسرے دلوں کو منور کر دیتی ہے۔اور جیسے موسم بہار کے آنے سے نباتی قو تیں جوش زن ہو جاتی ہیں ایسا ہی اُن کے ظہور سے فطرتی نور طبائع سلیمہ میں جوش مارتے ہیں اور خود بخود ہر یک سعید کا دل یہی چاہتا ہے کہ اپنی سعادت مندی کی استعدادوں کو بکوشش تمام منصہ ظہور میں لاوے اور خواب غفلت کے پردوں سے خلاصی پاوے اور معصیت اور فسق و فجور کے داغوں سے اور جہالت اور بے خبری کی ظلمتوں سے نجات حاصل کرے۔سوان کے مبارک عہد میں کچھ ایسی خاصیت ہوتی ہے اور کچھ اس قسم کا انتشار نورانیت ہو جاتا ہے کہ ہر یک مومن اور طالب حق بقدر طاقت ایمانی اپنے نفس میں بغیر کسی ظاہری موجب کے انشراح اور شوق دینداری کا پاتا ہے اور ہمت کو زیادت اور قوت میں دیکھتا ہے۔غرض ان کے اس عطر لطیف سے جو ان کو کامل متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ہر یک مخلص کو بقدر اپنے اخلاص کے حظ پہنچتا ہے۔ہاں جو لوگ شقی از لی ہیں وہ اس سے کچھ حصہ نہیں پاتے بلکہ اور بھی عناد اور حسد اور شقاوت میں بڑھ کر ہاو یہ جہنم میں گرتے ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمُ ا ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۲۸ تا ۵۳۲ حاشیه در حاشیه نمبر۳) متبعین قرآن شریف کو جو انعامات ملتے ہیں اور جو مواہب خاصہ ان کے نصیب ہوتے ہیں اگر چہ وہ بیان اور تقریر سے خارج ہیں مگر اُن میں سے کئی ایک ایسے انعامات عظیمہ ہیں جن کو اس جگہ مفصل طور پر بغرض ہدایت طالبین بطور نمونہ لکھنا قرین مصلحت ہے۔چنانچہ وہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ازاں جملہ علوم و معارف ہیں جو کامل متبعین کو خوانِ نعمت فرقانیہ سے حاصل ہوتے ہیں۔جب انسان فرقان مجید کی کچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امر و نہی کے بکلی حوالہ کر دیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری و معنوی باقی نہیں رہتا۔تب اس کی نظر اور فکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب غریب لطائف اور نکات علم الہی کے جو کلام الہی میں پوشیدہ البقرة : ٨