حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 501
۵۰۱ دیده ام کوہست نور دیده با در اثر مهرش چو مہر انورے اے تافت آں روئے کزاں رو سرنتافت یافت آن در ماں کہ بگزید آں ڈرے ہے ہر کہ بے او زد قدم در بحرِ دیں کرد ، در اول قدم گم معبرے سے امی و در علم و حکمت بے نظیر ہیں چه باشد حجتی روشن ترے ہے ہے آں شراب معرفت دادش خدا کز شعاعش خیره شد ہر اخترے ۵ شد عیاں از وے على الوجه الاتم جوہرِ انساں کہ بود آں مضمرے 1 ختم شد برنفس پاکش ہر کمال آفتاب ہر زمین و ہر زماں لا جرم شد ختم رہبر ہر اسور و ہر , پیغمبرے In ہر احمرے A خاورے 2 مجمع البحرین علم و معرفت جامع الاسمین ابر چشم من بسیار گردید و ندید چشمہ چوں دین او صافی ترے نے سالکاں را نیست غیر از وے امام ره روان را نیست جز دے رہبرے لال سوزد از انوار آں بال و پرے ۱۲ جائے او جائیکہ طیر قدس را لے میں نے دیکھا کہ وہ آنکھوں کا نور ہے اس کی محبت کا اثر چمکدار سورج کی مانند ہے۔وہ چہرہ روشن ہو گیا جس نے اس سے روگردانی نہ کی۔وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس کا دروازہ پکڑ لیا۔سے جس نے اس کے بغیر دین کے سمندر میں قدم رکھا۔اس نے پہلے ہی قدم میں گھاٹ کو کھو دیا۔وہ اُمی ہے مگر علم و حکمت میں بے نظیر ہے اس سے زیادہ اس کی صداقت پر اور کیا دلیل ہوگی؟ خدا نے اسے وہ شراب معرفت عطا فرمائی کہ اس کی شعاعوں سے ہر ستارہ ماند پڑ گیا۔اس کے باعث پورے طور پر عیاں ہو گیا انسان کا وہ جو ہر جو مخفی تھا۔کے اس کے پاک نفس پر ہر کمال ختم ہو گیا اس لئے اس پر پیغمبروں کا خاتمہ ہو گیا۔وہ ہر ملک اور ہر زمانہ کے لئے آفتاب ہے اور ہر اسود واحمر کا رہبر ہے۔وہ علم اور معرفت کا مجمع البحرین ہے۔بادل اور آفتاب دونوں ناموں کا جامع ہے۔10 میں نے بہت تلاش کیا مگر کہیں نہیں دیکھا اس کے دین کی مانند مصفی چشمہ۔سالکوں کے لئے اس کے سوا کوئی امام نہیں راہ حق کے متلاشیوں کے لئے اس کے سوا کوئی رہبر نہیں۔اس کا مقام وہ ہے جہاں کے انوار سے جبریل کے بال و پر جلتے ہیں۔