حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 500
از شراب شوق جاناں بے خودی روشنی از وے بہر قوع رسید آیت رحماں برائے ہر بصیر در سرش بر خاک بنہادہ سرے لے نور او رخشید بر ہر کشورے سے حجت حق بہر ہر دیدہ ورے سے ناتوانان را برحمت 6 6 دستگیر خستہ جاناں را به شفقت غم خورے سے حُسن رولیش ز ماه و آفتاب خاک کولیش به ز مشک و عنبری ۵ آفتاب و مه نہ چه مے ماند بدو در پیش از نور حق صد تیرے 1 یک نظر بہتر ز عمر جاوداں گرفتد کس را براں خوش پیکرے کے منکه از حسنش ہے دارم خبر جاں فشانم گر دل دیگرے وہر 스 یاد آن صورت مرا از خود برد ہر زمان مستم کند از ساغری 2 می پریدم سوئے کوئے اُو مدام من اگر مے داشتم بال و پرے تلے لاله و ریحاں چه کار آید مرا من سرے دارم باں روڈ سرے لال خوبی او دامن دل می کشد موکشانم می بُرد زور آورے ۱۲ لے وہ محبوب کے عشق کی شراب میں بیخود ہے اُس کی محبت میں اُس نے اپنا سر خاک پر رکھا ہوا ہے۔ہے اس سے ہر قوم کو روشنی پہنچی۔اُس کا نور ہر ملک پر چمکا۔وہ ہر صاحب بصیرت کے لئے آیت اللہ اور ہر اہل نظر کے حجت حق ہے۔کمزوروں کا رحمت کے ساتھ ہاتھ پکڑنے والا اور نا امیدوں کا شفقت کے ساتھ غمخوار۔اس کے چہرہ کا حسن شمس و قمر سے زیادہ ہے اور اس کے کوچہ کی خاک، خوشبو مشک و عنبر سے زیادہ اچھی ہے۔سورج اور چاند اس سے کیا مشابہت رکھ سکتے ہیں اس کے دل میں تو خدا کے نور سے سوسورج روشن ہیں۔کے ہمیشہ کی زندگی سے ایک نظر بہتر ہے اگر اس پیکر حسن پر پڑ جائے۔میں جو اس کے حسن سے باخبر ہوں اس پر اپنی جان قربان کرتا ہوں جب کہ دوسرا صرف دل دیتا ہے۔اس کی یاد مجھے بے خود بنادیتی ہے وہ ہر وقت مجھے ایک ساغر سے مست رکھتا ہے۔اہ میں ہمیشہ اس کے کوچہ میں اڑتا پھرتا اگر میں پرو بال رکھتا۔الے لالہ وریحان میرے کس کام کے ہیں؟ میں تو اس چہرہ وسر سے تعلق رکھتا ہوں۔اس کی خوبی دامن دل کو پہنچتی ہے اور ایک طاقتور ہستی مجھے کشاں کشاں لے جا رہی ہے۔