حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 494
۴۹۴ لَا نَتَّقِي نَوْبَ الزَّمَــــانِ وَلَا نَخَافُ تَهَدُّدَا ! وَنَمُدُّ فِي أَوْقَاتِ افَاتٍ إِلَى الْمَوْلى يَدَا ! م مِنْ مُّنَازَعَةٍ جَرَتْ وَأَقْوَامِ الْعِدَا ٣ انْكَنَيْتُ مُظَفَّرًا وَمُــوَّقَـــرًا وَّ مُؤَيَّدًا 2 اَدْرَكَنِي الْهُدَى۔لهِ حَمْدَ ثُمَّ حَمْدٌ قَدْ عَرَفْنَا الْمُقْتَدى ۵ كَادَتْ تُعَفِّيْنِي ضَلَالَاتٌ فَادْرَكَنِ يَا صَاحِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ اغطى لَنَا هَذَا جَدَا ك هُوَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ الَّتِي طِي نَعِيْمًا مُخُلَدَا A اتَجُولُ فِي حَوْمَاتِ نَفْسِكَ تَارِكَاسُنَنَ الْهُدَى و هَلَّا انْتَهَجُتَ مَحَجَّةَ الاحْيَاءِ يَا صَيدَ الرَّدَا۔وَتَرى بِوَقْتٍ بَعْدَهُ فِي زِيّ أَحْمَدَ أَحْمَدَا !! کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ ۷۱،۷۰ ) لے ہم زمانے کے حادثات سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی ہم کسی دھمکی سے خوف کھاتے ہیں۔ے اور ہم مصیبتوں کے اوقات میں اپنے مولا کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہیں۔بہت سے مقابلے ہیں جو میرے اور دشمنوں کی قوموں کے درمیان ہوئے۔ے یہاں تک کہ میں کامیاب، معزز اور مؤید ہو کر لوٹا۔اللہ ہی کی سب تعریف ہے پھر تعریف ہے کہ ہم نے اپنے مقتدا کو پہچان لیا ہے۔قریب تھا کہ گمراہیاں مجھے مٹادیتیں پر ہدایت نے مجھے پالیا۔کے اے ساتھی! بے شک اللہ (تعالی) نے ہمیں یہ عطیہ بخش دیا ہے۔وہ ایسی لیلۃ القدر ہے جو دائمی نعمت عطا کرتی ہے۔کیا تو ! (اے مخاطب) اپنے نفس کے میدانوں میں ہدایت کے طریقوں کو چھوڑ کر گھوم رہا ہے؟ ا تو کیوں زندوں کے طریق کار پر گامزن نہ ہوا ؟ اے ہلاکت کے شکار ! الے اور تو کسی وقت اس کے بعد احمد کو احمد کے لباس میں دیکھ لے گا۔