حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 492
۴۹۲ يَا سَيِّدِى قَدْ جِئْتُ بَابَكَ لَاهِفًا وَالْقَوْمُ بِالْإِكْفَارِ قَدْ آذَانِى 1 أَنْظُرُ إِلَيَّ بِرَحْمَةٍ وَّتَحَنَّنٍ يَا سَيِّدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ لَ يَا حِبِّ إِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّةٌ فِي مُهْجَتِي وَ مَدَارِكِي وَ جَنَانِي ٣ مِنْ ذِكْرِ وَجُهِكَ يَا حَدِيقَةً بَهْجَتِي لَمُ أَخْلُ فِي لَحْظِ وَّلَا فِي آن 2 جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ م آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۰ تا ۵۹۴) يَاقَلْبِيَ اذْكُرُ أَحْمَدَا عَيْنَ الْهُدَى مُفْنِى الْعَدَا ل رًّا كَرِيمًا مُحْسِنَا بَحْرَ الْعَطَايَا وَالْجَدَا كن نِيرٌ زَاهِرٌ فِي كُلِّ وَصُفِ حُمدَا A إِحْسَانُهُ يُصْبِي الْقُلُوبَ وَحُسْنُهُ يُروى الصَّدَا 3 الظَّالِمُونَ بِظُلْمِهِمُ قَدْ كَذَّبُوهُ تَمَرُّدَا۔وَ الْحَقُّ لَا يَسَعُ الْوَرى انُكَارَهُ لَمَّا بَدَا ال لے اے میرے آقا! میں تیرے دروازے پر مظلوم و مضطر فریادی کی حالت میں آیا ہوں جبکہ قوم نے ( مجھے ) کافر کہ کر ایذا دی ہے۔ے تو مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر۔اے میرے آقا! میں ایک حقیر ترین غلام ہوں۔اے میرے آقا! تو از راہ محبت میری جان، میرے حواس اور میرے دل میں داخل ہو گیا ہے۔اے میری خوشی کے باغ ! تیرے چہرے کی یاد سے میں ایک لحظہ اور آن کے لئے بھی خالی نہیں رہا۔میرا جسم تو شوق غالب سے تیری طرف اڑنا چاہتا ہے۔اے کاش ! مجھ میں اڑنے کی طاقت ہوتی۔اے میرے دل! احمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر جو ہدایت کا سرچشمہ اور دشمنوں کو فنا کرنے والا۔کے نیک، کریم محسن ، بخششوں اور سخاوت کا سمندر ہے۔وہ چودھویں کا نورانی روشن چاند ہے۔وہ ہر وصف میں تعریف کیا گیا ہے۔اس کا احسان دلوں کو موہ لیتا ہے اور اس کا حسن پیاس کو بجھا دیتا ہے۔نا ظالموں نے اپنے ظلم کی وجہ سے اسے سرکشی سے جھٹلایا ہے۔لا اور سچائی ایسی شے ہے کہ مخلوق اس کا انکار نہیں کرسکتی جب وہ ظاہر ہو جائے۔