حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 477
آنحضرت ضرور خدا کی طرف سے نیچے ہادی ہیں۔جو شخص تعصب اور ضدیت سے انکاری ہو اُس کی مرض تو لا علاج ہے خواہ وہ خدا سے بھی منکر ہو جائے ورنہ یہ سارے آثار صداقت جو آنحضرت میں کامل طور پر جمع ہیں کسی اور نبی میں کوئی ایک تو ثابت کر کے دکھلاوے تا ہم بھی جانیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۱۲ تا ۱۱۴) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجد داعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی صلعم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر تو حید کا جامہ نہ پہن لیا۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہونچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلعم کے نصیب نہیں ہوئی یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلعم کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعا ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا۔اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دُنیا سے انتقال فرمایا جبکہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر تو حید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور در حقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا۔اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں - باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی۔اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے اور چیونٹیوں کی طرح پیروں میں کچلے گئے مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ دیا بلکہ ہر ایک مصیبت میں آگے قدم بڑھایا۔پس بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہونچے اور تمام نیک قو تیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بار و بر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تأخر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہو گئے اور چونکہ آپ صفات الہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفات جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی اور آپ کے دو نام محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے ہیں اور