حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 393

۳۹۳ نہ معلوم آپ لوگوں کو کس نے بہکا دیا کہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ گویا عقل اور الہام میں کسی قدر با ہم تناقض ہے جس کے باعث وہ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔خدا تمہاری آنکھیں کھولے اور تمہارے دلوں کے پردے اُٹھا دے۔کیا تم اس آسان بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس حالت میں الہام کی طفیل سے عقل اپنے کمال کو پہنچتی ہے اپنی غلطیوں پر متنبہ ہوتی ہے اپنی راہ مقصود کی سمت خاص کو دریافت کر لیتی ہے آوارہ گردی اور سرگردانی سے چھوٹ جاتی ہے اور ناحق کی محنتوں اور بے ہودہ مشقتوں اور بے فائدہ جان کنی سے رہائی پاتی ہے اور اپنے مشتبہ اور مظنون علم کو یقینی اور قطعی کر لیتی ہے اور مجرد انکلوں سے آگے بڑھ کر واقعی وجود پر مطلع ہو جاتی ہے تسلی پکڑتی ہے آرام اور اطمینان پاتی ہے تو پھر اس صورت میں الہام اس کا محسن و مددگار اور مربی ہوا یا اس کا دشمن اور مخالف اور ضرر رساں ہوا یہ کس قسم کا تعصب اور کس نوع کی نابینائی ہے کہ جو ایک بزرگ مربی کو جو صریح رہبری اور رہنمائی کا کام دے رہا ہے رہزن اور مزاحم تصور کیا جاتا ہے اور جو گڑھے سے باہر نکالتا ہے اس کو گڑھے کے اندر دھکیلنے والا سمجھ رہے ہیں۔سارا جہان جانتا ہے اور تمام آنکھوں والے دیکھ رہے ہیں اور غور کرنے والی طبیعتیں مشاہدہ کر رہی ہیں کہ دنیا میں عقل کی خوبی اور عظمت کو ماننے والے لاکھوں ایسے ہو گزرے ہیں اور اب بھی ہیں کہ جو باوجود اس کے کہ عقل کے پیغمبر پر ایمان لائے اور عاقل کہلائے اور عقل کو عمدہ چیز اور اپنا رہبر سمجھتے تھے مگر بایں ہمہ خدا کے وجود سے منکر ہی رہے اور منکر ہی مرے۔لیکن ایسا آدمی کوئی ایک تو دکھلاؤ کہ جو الہام پر ایمان لا کر پھر بھی خدا کے وجود سے انکاری رہا۔پس جس حالت میں خدا پر محکم ایمان لانے کے لئے الہام ہی شرط ہے تو ظاہر ہے کہ جس جگہ شرط مفقود ہو گی اُس جگہ مشروط بھی ساتھ ہی مفقود ہو گا سو اب بدیہی طور پر ثابت ہے کہ جو لوگ الہام سے منکر ہو بیٹھے ہیں انہوں نے دیدہ و دانستہ بے ایمانی کی راہوں سے پیار کیا ہے اور دہر یہ مذہب کے پھیلنے اور شائع ہو جانے کو روا رکھا ہے۔یہ نادان نہیں سوچتے کہ جو وجود غیب الغیب ہے نہ دیکھنے میں آسکتا ہے نہ سونگھنے میں نہ ٹولنے میں اگر قوت سامعہ بھی اُس ذات کامل کے کلام سے محروم اور بے خبر ہو تو پھر اس نا پیدا وجود پر کیونکر یقین آوے۔اور اگر مصنوعات کے ملاحظہ سے صانع کا کچھ خیال بھی دل میں آیا لیکن جب طالب حق نے مدت العمر کوشش کر کے نہ کبھی اس صانع کو اپنی آنکھوں سے دیکھا نہ کبھی اس کے کلام پر مطلع ہوا نہ کبھی اُس کی نسبت کوئی ایسا نشان پایا کہ جو جیتے جاگتے میں ہونا چاہئے تو کیا آخر اس کو یہ وسوسہ نہیں گذرے گا کہ شاید میری فکر نے ایسے صانع کے قرار دینے میں غلطی کی ہو اور شاید دہریہ اور طبعیہ ہی بچے ہوں کہ جو عالم کی بعض اجزا کو