حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 352

۳۵۲ مشمومات کے دریافت کرنے سے محروم ہیں۔علی ہذا القیاس باطنی استعدادوں میں بھی بنی آدم مختلف ہیں۔بعض ادنی ہیں اور مُجب نفسانی میں مجوب ہیں۔اور بعض قدیم سے ایسے نفوس عالیہ اور صافیہ ہوتے چلے آئے ہیں کہ جو خدا سے الہام پاتے رہے ہیں۔اور ادنیٰ فطرت کے لوگ کہ جو محجوب النفس ہیں اُن کا نفوسِ عالیہ لطیفہ کے خصائص ذاتیہ سے انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی اندھا یا ضعیف البصر صاحب بصارت قویہ کے مرئیات سے انکار کرے۔یا جیسا ایک اختم آدمی جس کی قوت بویائی ابتدا پیدائش سے ہی باطل ہو صاحب قوت شامہ کے مشموعات سے منکر ہو۔اور پھر منکر کے ملزم کرنے کے لئے بھی جو ظاہری طور پر تدابیر ہیں وہی باطنی طور پر بھی تدابیر موجود ہیں۔مثلاً جس کی قوت شامہ کا مفقود ہونا بعلت مولودی ہے اگر وہ بد بو کے وجود سے منکر ہو بیٹھے اور جس قدر لوگ صاحب قوت شامہ ہیں سب کو دروغ گویا وہمی قرار دے تو اس کو یوں سمجھا سکتے ہیں کہ اُس کو یہ کہا جائے کہ وہ بہت سی چیزوں مثلاً پار چات میں سے بعض پر عطر مل کر اور بعض کو خالی رکھ کر صاحب قوت شامہ کا امتحان کر لے تا تکرار تجربہ سے اس کو اس بات پر یقین ہو جائے کہ قوت شامہ کا وجود بھی واقعی اور حقیقی ہے اور ایسے لوگ فی الحقیقت پائے جاتے ہیں کہ جو معطر اور غیر معطر میں فرق کر لیتے ہیں۔ایسا ہی تکرار تجربہ سے الہام کا وجود طالب حق پر ثابت ہو جاتا ہے۔کیونکہ جب صاحب الہام پر وہ امور غیبیہ اور دقائق مخفیہ منکشف ہوتے ہیں کہ جو مجرد عقل سے منکشف نہیں ہو سکتے۔اور کتاب الہامی ان عجائبات پر مشتمل ہوتی ہے جن پر کوئی دوسری کتاب مشتمل نہیں ہوتی ، تو طالب حق اسی دلیل سے سمجھ لیتا ہے کہ الہام الہی ایک متحقق الوجود صداقت ہے۔اور اگر نفوس صافیہ میں سے ہو تو خود ٹھیک ٹھیک راہ راست پر چلنے سے کسی قدر بہ حیثیت نورانیت قلب اپنے کے الہام الہی کو اولیاء اللہ کی طرح پا بھی لیتا ہے جس سے وحی کر سالت پر بطور حق الیقین اس کو علم حاصل ہو جاتا ہے۔چنانچہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے قبول کرنے پر دلی سچائی اور روحانی صدق اور خالص اطاعت سے رغبت ظاہر کرے ہم ہی اس طور پر تسلی کر دینے کا ذمہ اٹھاتے ہیں۔وَ اِنْ كَانَ اَحَدٌ فِي شَكٍّ مِّنْ قَوْلِى فَلْيَرْجِعُ إِلَيْنَا بِصِدْقِ الْقَدَمِ۔وَاللَّهُ عَلَى مَانَقُولُ قَدِيرٌ۔وَهُوَ فِي كُلِّ أَمْرٍ نَصِيرٌ اور یہ خیال کرنا کہ جو جو دقائق فکر اور نظر کے استعمال سے لوگوں پر کھلتے ہیں وہی الہام ہیں بجز ان کے کوئی شے الہام نہیں۔یہ بھی ایک ایسا وہم ہے جس کا موجب صرف کور باطنی اور بے خبری ہے۔اگر انسانی خیالات ہی خدا کا الہام ہوتے تو انسان بھی خدا کی طرح بذریعہ اپنے فکر اور نظر کے اُمور غیبیہ کو