حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 351
۳۵۱ سکے۔غرض انسانی عقل کی نا قابلیت اور رسمی علوم کی محدودیت ضرورت الہام پر شہادت دے رہی ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۶ تا ۳۲۹) وسوسہء نہم۔یہ اعتقاد کہ خدا آسمان سے اپنا کلام نازل کرتا ہے یہ بالکل درست نہیں کیونکہ قوانین نیچر یہ اس کی تصدیق نہیں کرتے۔اور کوئی آواز اوپر سے نیچے کو آتی ہم کبھی نہیں سنتے بلکہ الہام صرف ان خیالات کا نام ہے کہ جو فکر اور نظر کے استعمال سے عظمند لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں وبس۔جواب۔جو صداقت بجائے خود ثابت ہے اور جس کو بے شمار صاحب معرفت لوگوں نے بچشم خود مشاہدہ کر لیا ہے اور جس کا ثبوت ہر زمانہ میں طالب حق کو مل سکتا ہے اگر اس سے کوئی ایسا انسان منکر ہو کہ جو روحانی بصیرت سے بے بہرہ ہے یا اگر اُس کی تصدیق سے کسی محجوب القلب کا فکر قاصر اور علم ناقص ناکام رہے تو اُس صداقت کا کچھ بھی نقصان نہیں اور نہ وہ ایسے لوگوں کے بگ بگ کرنے سے قوانین قدرتیہ سے باہر ہو سکتی ہے۔مثلاً تم سوچو کہ اگر کوئی اس قوت جاز بہ سے جو مقناطیس میں ہے بے خبر ہو اور اُس نے کبھی مقناطیس دیکھا ہی نہ ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ مقناطیس ایک پتھر ہے اور جہاں تک قوانین قدرتیہ کا مجھے علم ہے اس طور کی کشش کو میں نے کبھی کسی پتھر میں مشاہدہ نہیں کیا اس لئے میری رائے میں جو مقناطیس کی نسبت ایک خاصیت جذب خیال کی گئی ہے وہ غلط ہے کیونکہ قوانین نیچریہ کے برخلاف ہے تو کیا اس کی اس فضول گوئی سے مقناطیس کی ایک متحقق خاصیت غیر معتبر اور مشکوک ہو جائے گی ؟ ہرگز نہیں بلکہ ایسے نادان کی ان فضول باتوں سے اگر کچھ ثابت بھی ہو گا تو یہی ثابت ہو گا کہ وہ سخت درجہ کا احمق اور جاہل ہے کہ جو اپنے عدم علم کو عدم شے پر دلیل ٹھہراتا ہے اور ہزار ہا صاحب تجر بہ لوگوں کی شہادت کو قبول نہیں کرتا۔بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ قوانین قدرتیہ کے لئے یہ بھی شرط ہو کہ ہر یک فرد بشر عام طور پر خودان کو آزما لیوے۔خدا نے نوع انسان کو ظاہری و باطنی قوتوں میں متفاوت پیدا کیا ہے مثلاً بعض کی قوت باصرہ نہایت تیز ہے۔بعض ضعیف البصر ہیں۔بعض بعض اندھے بھی ہیں۔جو ضعیف البصر ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ تیز بصارت والوں نے دُور سے کسی بار یک چیز کو مثلاً ہلال کو دیکھ لیا تو وہ انکار نہیں کرتے بلکہ انکار کرنا اپنی ذلت اور پردہ دری کا موجب سمجھتے ہیں اور اندھے بیچارے تو ایسے معاملہ میں دم بھی نہیں مارتے۔اسی طرح جن کی قوت شامہ مفقود ہے وہ صد ہا ثقہ اور راست گولوگوں کی زبان سے خوشبو، بد بو کی خبریں جب سنتے ہیں تو یقین کر لیتے ہیں اور ذرہ شک نہیں کرتے اور خوب جانتے ہیں کہ اس قدر لوگ جھوٹ نہیں بولتے ضرور بچے ہیں اور بلاشبہ ہماری ہی قوت شامہ ندارد ہے کہ جو ہم ان