حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 339

۳۳۹ ایسا ہو گا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا ہے (اور یاد رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رویا صالحہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الہیہ انسان کی شکل پر متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آ جاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے۔اور یہ امرار باب کشوف میں شائع و متعارف ومعلوم الحقیقت ہے جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا ) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوتِ متخیلہ کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے۔اس ذات بیچون و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضاء وقد ر پیش کی گئی اور اُس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سُرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑ کا اور بقیہ سُرخی کا قلم کے منہ میں رہ گیا اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیئے۔اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہو گئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سُرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے چنانچہ ایک صاحب عبداللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرہ سُرخی کے اُن کی ٹوپی پر پڑے۔پس وہ سُرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آ گئی۔اسی طرح اور کوئی مکاشفات میں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے مشاہدہ کیا گیا ہے اور اپنے ذاتی تجارب سے ثابت ہو گیا جو بلاشبہ امور کشفیہ کبھی کبھی باز نہ تعالیٰ وجود خارجی پکڑتے ہیں۔یہ امور عقل کے ذریعہ سے ہرگز ذہن نشین نہیں ہو سکتے بلکہ جو شخص عقل کے گھمنڈ اور غرور میں پھنسا ہوا ہے وہ ایسی باتوں کو سنتا ہے نہایت تکبر سے کہے گا کہ یہ سراسر امر محال اور خیال باطل ہے اور ایسا کہنے والا یا تو دروغ گو ہے یا دیوانہ یا اس کو سادہ لوحی کی وجہ سے دھو کہ لگا ہے اور باعث نقصان تحقیق بات کی تہ تک پہنچنے سے محروم رہ گیا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ان عقلمندوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ امور جن کی صداقت پر ہزار ہا عارف دراستباز اپنے ذاتی تجارب سے شہادتیں دے گئے ہیں اور اب بھی دیتے ہیں اور صحبت گزین پر ثابت کر دینے کے لئے بفضلہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری لیتے ہیں کیا وہ ایسے خفیف امور ہیں جو صرف منکرانہ زبان ہلانے سے باطل ہو سکتے ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ عالم کشف کے عجائبات تو ایک طرف رہے جو عالم عقل ہے یعنی جس عالم تک عقل کی رسائی ہونا ممکن ہے اس عالم کا بھی ابھی تک عقل نے تصفیہ نہیں کیا اور لاکھوں اسرار الہی پردہ غیب میں دبے پڑے ہیں جن کی عقلمندوں کو ہوا تک نہیں پہنچی۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۷۵ تا ۱۸۱ حاشیہ )