حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 338
۳۳۸ ہو جائیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان آنکھوں کو بند کر کے مثلاً اس بات پر زور لگائے کہ وہ قابل رؤیت چیزوں کو قوت شامہ کے ذریعہ سے دیکھ لے۔بلکہ عجائبات عالم باطن در باطن سے عقل ایسی حیران ہے کہ کچھ دم نہیں مار سکتی کہ یہ کیا بھید ہے۔روحوں کی پیدائش پر انسان کیوں تعجب کرے اسی دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ اُن کی گنہ کو سمجھنے میں بکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف صد ہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے۔بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باز نہ تعالیٰ اس کی آواز بھی سُن لیتا ہے اور اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سُن لیتا ہے جس کی صورت اُس پر منکشف ہوئی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گذشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ملاقات ہر یک نیک بخت روح یا بد بخت روح کے کشف قبور کے طور پر ہو سکتی ہے۔چنانچہ خود اس میں مؤلف رسالہ ہذا صاحب تجربہ ہے۔اور یہ امر ہندوؤں کے مسئلہ تناسخ کی بیخ کنی کرنے والا ہے۔اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحب کشف اپنی توجہ اور قوت تاثیر سے ایک دوسرے شخص پر باوجود صد ہا کوسوں کے فاصلہ کے باذنہ تعالیٰ عالم بیداری میں ظاہر ہو جاتا ہے۔حالانکہ اس کا وجود عنصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرتا اور عقل کے زور سے ایک چیز کا دو جگہ ہونا محال ہے۔سو وہ محال اس عالم ثالث میں ممکن الوقوع ہو جاتا ہے۔اسی طرح صد ہا عجائبات کو عارف بچشم خود دیکھتا ہے۔اور ان کو رباطنوں کے انکار سے تعجب پر تعجب کرتا ہے جو اس عالم ثالث کے عجائبات سے قطعا منکر ہیں۔راقم رسالہ ہذا نے اس عالم ثالث کے عجائبات اور نادر مکاشفات کو قریب پانچ ہزار کے بچشم خود دیکھا اور اپنے ذاتی تجربہ سے مشاہدہ کیا اور اپنے نفس پر انہیں وارد ہوتے پایا ہے۔اگر ان سب کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی بھاری کتاب تالیف ہو سکتی ہے۔ان سب عجائبات میں سے ایک بڑی عجیب بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ بعض کشفی امور جن کا خارج میں نام و نشان نہیں محض قدرت غیبی سے وجود خارجی پکڑ لیتے ہیں۔اگر چہ صاحب فتوحات و فصوص و دیگر اکثر اکابر متصوفین نے اس بارے میں بہت سے اپنے خود گذشت قصے اپنی تالیفات میں لکھے ہیں لیکن چونکہ دید و شنید میں فرق ہے اس لئے مجرد ان قصوں کی سماعت سے ہم کو وہ کیفیت یقینی حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو اپنے ذاتی مشاہدہ سے حاصل ہوئی۔ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں