حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 299

۲۹۹ جو ہزاروں انعامات اپنے اندر رکھتی ہیں اور نہایت قوی اثر دل پر کرتی ہیں انسان کو سچا اور زندہ ایمان نصیب ہوتا ہے اور ایک سچا اور پاک تعلق خدا سے ہو کر نفسانی غلاظتیں دُور ہو جاتی ہیں۔اور تمام کمزوریاں دُور ہو کر آسمانی روشنی کی تیز شعاعوں سے اندرونی تاریکی الوداع ہوتی ہے اور ایک عجیب تبدیلی ظہور میں آتی ہے۔پس جو مذہب اس خدا کو جس کا ان صفات سے متصف ہونا ثابت ہے پیش نہیں کرتا اور ایمان کو صرف گذشتہ قصوں کہانیوں اور ایسی باتوں تک محدود رکھتا ہے جو دیکھنے اور کہنے میں نہیں آئی ہیں وہ مذہب ہر گز سچا مذہب نہیں ہے۔اور ایسے فرضی خدا کی پیروی ایسی ہے کہ جیسے ایک مردہ سے توقع رکھنا کہ وہ زندوں جیسے کام کرے گا۔ایسے خدا کا ہونا نہ ہونا برابر ہے جو ہمیشہ تازہ طور پر اپنے وجود کو آپ ثابت نہیں کرتا گویا وہ ایک بُت ہے جو نہ بولتا ہے اور نہ سکتا ہے اور نہ سوال کا جواب دیتا ہے اور نہ اپنی قادرانہ قوت کو ایسے طور پر دکھا سکتا ہے جو ایک پکا دہر یہ بھی اس میں شک نہ کر سکے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۱ ۳۲) وسوسہ ہشتم۔انسان کو خدا کا ہم کلام تجویز کرنا ادب سے دُور ہے۔فانی کو ذات ازلی ابدی سے کیا نسبت۔اور مشتِ خاک کونو رو جوب سے کیا مشابہت؟ جواب۔یہ وہم بھی سراسر بے اصل اور پوچ ہے۔اور اس کے قلع و قمع کے لئے انسان کو اسی بات کا سمجھنا کافی ہے کہ جس کریم اور رحمن نے افراد کا ملہ بنی آدم کے دل میں اپنی معرفت کے لئے بے انتہا جوش ڈال دیا اور ایسا اپنی محبت اور اپنی اُنس اور اپنے شوق کی طرف کھینچا کہ وہ بالکل اپنی ہستی سے کھوئے گئے تو اس صورت میں یہ تجویز کرنا کہ خدا ان کا ہم کلام ہونا نہیں چاہتا اس قول کے مساوی ہے کہ گویا اُن کا تمام م عشق اور محبت ہی عبث ہے اور اُن کے سارے جوش یک طرفہ خیالات ہیں۔لیکن خیال کرنا چاہئے کہ ایسا خیال کس قدر بے ہودہ ہے۔کیا جس نے انسان کو اپنے تقرب کی استعداد بخشی اور اپنی محبت اور عشق کے جذبات سے بے قرار کر دیا اس کے کلام کے فیضان سے اس کا طالب محروم رہ سکتا ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ خدا کا عشق اور خدا کی محبت اور خدا کے لئے بے خود اور محو ہو جانا یہ سب ممکن اور جائز ہے اور خدا کی شان میں کچھ حارج نہیں۔مگر اپنے محبت صادق کے دل پر خدا کا الہام نازل ہونا غیر ممکن اور نا جائز ہے اور خدا کی شان میں حارج ہے۔انسان کا خدا کی محبت کے بے انتہا دریا میں ڈوبنا اور پھر کسی مقام میں بس نہ کرنا اس بات پر شہادت قاطع ہے کہ اس کی عجیب الخلقت روح خدا کی معرفت کے لئے